کراچی: پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے، جہاں کثیرالثقافتی قومیں رہتی ہیں اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی ثقافت صدیوں کی تاریخ پر محیط ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں جہاں دیگر صوبے اپنے ثقافتی دن مناتے ہیں وہیں صوبہ سندھ میں بھی ہرسال دسمبر کے پہلے ہفتے میں ثقافتی دن منایا جاتا ہے جسے مقامی لوگ اپنی ثقافتی عید بھی کہتے ہیں۔
سندھی ثقافت کا دن صوبائی دارالحکومت کراچی میں آج خوب جوش وخروش سے منایا جا رہا ہے جبکہ سندھی ڈے کے موقع پر کراچی سے لے کر کشمور تک، کینجھر سے لے کر کارونجھر تک تمام شہر، دیہات اور بستیاں ثقافتی رنگوں میں رنگ جاتی ہیں۔
سندھی ثقافتی دن کے موقع پر سندھ کے دارالحکومت کراچی، حیدرآباد، میرپوخاص، سکھر، نوابشاہ، خیرپور، لاڑکانہ، شکارپور، دادو، ٹھٹہ، گھوٹکی، اور تھرپارکر سمیت صوبے کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے پریس کلب اور آرٹس کونسل سمیت دیگر ثقافتی اداروں میں خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے، مگر اس سال تعلیمی اداروں کے بند ہونے کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات منعقد نہیں ہونگی۔
سندھی ثقافتی دن کے موقع پر غیر سرکاری تنظیموں اور سندھی میڈیا ہاؤسز میں بھی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جبکہ سندھی میڈیا ہاؤسز اس دن کو بھرپور جوش سے منانے کے لیے خصوصی اشاعتوں اور اسپیشل پروگراموں کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔
سندھی ثقافتی دن کے موقع پر تمام لوگ اپنے ثقافتی لباس پہن کر اپنی ثقافت سے محبت کا اظہار کرتے ہیں، مرد اجرک کے ساتھ ٹوپی اور زیادہ تر سفید لباس پہن کر اپنی ثقافتی دن کو مناتے ہیں اور خواتین اجرک سے تیار کپڑوں سمیت دیگر ثقافتی لباس پہن کر اپنی خوشی کا اظہار کرتی ہیں جبکہ ثقافتی دن کو منانے کی تیاریاں نومبر کے وسط سے شروع ہوجاتی ہیں اور ثقافتی تقریبات کا آغاز بھی نومبر کے آخر سے شروع ہوجاتا ہے اور جو ثقافتی دن کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔
ثقافتی دن کے حوالے سے زیادہ تر لوک ادب اور موسیقی کے پروگرامات منعقد کیے جاتے ہیں۔
دوسری جانب پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھی کلچرل ڈے پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہاکہ انڈس سویلائیزیشن عرضِ پاکستان کا تاج ہے اور آج کا دن نوجوانوں کا دن ہے، جو عظیم ثقافت و تہذیب کے وارث و امین ہیں جبکہ یہ دن وادیِ مہران کی موسیقی و ڈانس جیسے قدیم فنون خواہ لذیذ کھانوں کو نئی جِلا بخشی ہے اور ہمیں دنیا سے سیکھنا چاہئیے کہ انہوں نے اِس طرح کی سرگرمیوں کو اپنی معاشرتی و معاشی نمو کا پلیٹ فارم کیسے بنایا ہے۔



