جکارتہ: انڈونیشیائی پولیس نے مقبول مسلمان عالم دین محمد رزق شہاب کے 6 حامیوں کو مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا۔
محمد رزق شہاب جو کہ اسلامی دفاعی محاذ (Islamic defender’s front) کے سربراہ ہیں، نے انڈونیشیا کے سابق عیسائی گورنر بسوکی تجاہاجہ کیخلاف پرزور تحریک کا آغاز کیا تھا جس نے اسلام کی توہین کی تھی۔ بسوکی کو اس جرم کی پاداش میں دو سال کی سزا بھی ہوئی تھی جبکہ دوسری جانب محمد رزق شہاب پر 2 مختلف الزامات پر فردِ جرم عائد کیا گیا تھا جس پر وہ 2017 میں ملک بدر بھی ہوگئے تھے۔
غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق محمد رزق شہاب گزشتہ مہینے ہی سعودی عرب سے وطن واپش پہنچے ہیں جس کے کچھ ہی دنوں بعد اُن پر کوروناوائرس ایس او پیز کیخلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
دارالحکومت جکارتہ میں پولیس نے محمد رزق شہاب کے حامیوں کو اُس وقت نشانہ بنایا جب وہ اتوار کی رات کو ہائی وے پر گاڑی میں سوار کہیں جارہے تھے۔ پولیس چیف فدل عمران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عالم دین رزق شہاب کے 6 پیروکاروں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کردی ہے۔

