English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عالمی اردو کانفرنس کا مقاصد زبان و ثقافت کو زندہ رکھنا ہے، صدر آرٹس کونسل

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تیرہویں عالمی اردو کانفرنس گزشتہ روز اختتام پذیر ہوگی جس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اہل علم و دانش نے کہا ہے کہ انتہائی نامساعد حالات اور خوف کی فضاءمیں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی نے عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد ورچوئل کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ جذبے صادق اور کچھ کرنے کی لگن ہو تو سب کچھ کیا جاسکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق تیرہویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری دن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حسینہ معین کا کہنا تھاکہ میں خوش ہوں کہ میرا ملک جاگ رہا ہے، زندہ ہے اور اسے ہمیشہ زندہ اور باقی رہنا ہے اور پہلے لوگ ان کانفرنسز میں سیکڑوں کی تعداد میں آتے تھے پھر ہزاروں میں آئے اور اب لاکھوں لوگ دنیا بھر میں ورچوئلی اسے دیکھ رہے ہیں۔

حسینہ معین کا کہنا تھاکہ احمدشاہ نے جو دیا (چراغ) جلایا ہے وہ نوجوانوں کے لیے ہے اور اس روشنی کو نوجوان آگے لے کر چلیں گے جبکہ منور سعید کا کہنا تھاکہ اکثر لوگوں نے احمد شاہ کو یہ کہاکہ اس سال وباءکے باعث کانفرنس نہ کی جائے مگر انہوں نے کہاکہ کسی بھی طرح عالمی اُردو کانفرنس تعطل کا شکار نہیں ہونی چاہیے ہم تمام ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے یہ کانفرنس ضرور کریں گے۔

 نورالہدیٰ شاہ کا کہنا تھاکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احمد شاہ نے اس عالمی اُردو کانفرنس کو منعقد کرکے ایک ویکسین دی ہے اور جو خوفزدہ اور ڈرے ہوئے لوگوں کو بھی قریب لے آئی اور انہیں خوشیاں فراہم کیں ہیں جبکہ پاکستان کی قومی زبان میں سے جو چیزیں چھپا دی گئی ہیں اور جن کو نظر انداز کیا گیا ہے ان کا مجموعہ اس کانفرنس میں نظر آتا ہے جہاں ہر زبان بولنے والا موجود ہے۔

عالمی اردو کانفرنس سے سہیل احمد کا کہناتھاکہ پہلے میرے ذہن میں کراچی کے نام کے ساتھ صرف سمندر کا تصور اُبھرتا تھا مگر اب احمد شاہ کا نام بھی ساتھ ذہن میں آتا ہےجبکہ اباسین یوسف زئی کا کہنا تھاکہ اس کانفرنس کے انعقاد سے ادباءاور کتابوں کی توقیر میں اضافہ ہوا ہے  اور احمد شاہ کراچی کے لیے ”امن شاہ“ ہیں۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس کانفرنس کے انعقاد سے روایت اور ثقافت کی حفاظت کی گئی ہے جبکہ مبین مرزا کا کہناتھاکہ وباءکے دنوں میں محبتوں کو فراموش کردیا جاتا ہے مگر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اب بھی محبتیں تقسیم کررہا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہاکہ اس کانفرنس کو کرنے کے 2 مقاصد تھے پہلا یہ کہ ہر حال میں زبان و ثقافت کو زندہ رکھنا چاہیے دوسرا مقصد اس کانفرنس کا یہ ہے کہ ہر طرح کی صورت حال میں مکمل ذمہ داری کے ساتھ کام ہوسکتے ہیں جبکہ عالمی اُردو کانفرنس میں شریک ہونے والے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کی کامیابی پر انہیں اور اپنی ٹیم کو بھرپور مبارکباد پیش کی ہے۔

صدر آرٹس کونسل نے اعلان کیا کہ کورونا کی وباءاگر کنٹرول میں آجاتی ہے تو 23 مارچ سے پہلے ہفتے میں قومی ثقافتی کانفرنس منعقد کریں گے جس میں تمام زبانوں اور ثقافتوں کو جمع کیا جائے گا اور آئندہ سال 2 تا 5 دسمبر میں 14 ویں عالمی اُردو کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

دوسری جانب عالمی اُردو کانفرنس کے آخری روز حاضرین اورملک بھر سے آئے ہوئے دانشوروں نے اُردو کی ترقی و ترویج کے لئے متعدد قراردادیں منظور کیں اور صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے قراردادیں پڑھ کر سنائیں جو حاضرین نے ہاتھ کھڑے کرکے منظور کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے