English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ایمیونل میخواں کے مسلم دشمن اقدامات نے فرانس کو بحران سے دوچار کردیا

القمر

(تجزیہ: مسعود ابدالی) فرانسیسی صدر ایمیونل میخواں ایک عرصے سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مصروف ہیں‘ مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی متاثر ہوئے۔ کچھ ہفتہ پہلے پیرس ریلوے اسٹیشن پر پولیس نے ایک نوجوان لڑکی کو روکا جس نے اسکارف اوڑھ رکھا تھا۔ عوامی مقامات پر اسکارف لینے کی اجازت نہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ قانون کے تحت خاتون سے کہا جاتا کہ وہ اسکارف اتار دے، عدم تعاون کی صورت میں اس لڑکی پر جرمانہ عاید ہونا چاہیے تھا لیکن افسر نے لڑکی کے سر سے اسکارف کھینچا جو نہ اُترسکا، جس پر افسر نے مشتعل ہوکر اس خاتون کی گردن کے گرد ہاتھ ڈال کر اس دھان پان سی بچی کو زمین پر دے مارا۔ اس منظر کی وہاں موجود کسی مسلمان نے وڈیو بنالی۔ پولیس افسران اس شخص کے پیچھے دوڑے لیکن وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور اس نے ایک بے نامی اکاؤنٹ سے وہ وڈیو سوشل میڈیا پر جاری کر دی۔ معاملہ مسلمان لڑکی کا تھا اس لیے کوئی بڑا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کچھ باضمیر وکلا نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن درخواست پہلی ہی سماعت میں خارج کر دی گئی۔ تاہم وڈیو کے اجرا پر پولیس بہت مشتعل تھی۔ وزیردفاع جیرالڈ ڈرمینن نے سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی وڈیو کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی منفی تشہیر سے پولیس کے جوانوں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے جو جان ہتھیلی پر رکھے انتہا پسندوں کی سرکوبی میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مہم بند ہونی چاہیے اور اس ضمن میں مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ صدر میخوان کی حکمراں جماعت نے داخلی سلامتی کے قانون Loi Securataire Globlaesیا Global Security Law میں ترمیم پارلیمان میں پیش کر دی، جسکے کے تحت پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی توہین، ان پر حملہ اور انہیں ‘ہراساں’ کرنے والوں کو ایک سال قیداور53 ہزار ڈالر جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔ Psychological harmکی جو تعریف بیان کی گئی ہے اسکے مطابق پولیس افسران کی تصویر کشی اور وڈیو کو سوشل میڈیا پر جاری کرنا ان پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ڈیوٹی پر موجود افسر کی طرف دھمکی آمیزانداز میں دیکھنا، مشتبہ فرد یا افراد کی گرفتاری کے وقت تصویر کھینچنا یا وڈیو بنانا غیر قانونی ہوگا اور اس حرکت کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے پولیس تصویر، وڈیو اور دوسرا مواد ان سے چھین سکتی ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اسی ترمیم کی ذیلی شق میں پولیس کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ مظاہروں کے دوران مشتبہ سرگرمیوں اور ‘دہشت گردوں ‘ پر نظر رکھنے کیلیے ڈرون کے ذریعے سارے علاقے کی نہ صرف فلم بندی کرسکتی ہے بلکہ اس دوران اگر مکانوں کی کھلی کھڑکیوں سے اندر کے مناظر بھی ریکارڈ ہوگئے تو اسے تخلیے میں مداخلت تصور نہیں کیا جائے گا۔ صدر میخواں اور انکے ساتھیوں نے قانون سازی کو انتہا پسندی کے خلاف اہم قدم قرار دیا اور اس جرأت مندانہ قدم پر خود داد سمیٹی۔ ایوان زیریں سے ترمیم منظور ہوتے ہی انہوں نے کہا کہ اب کوئی ہمارے دلیر وبہادر پولیس افسروں کی وڈیو سوشل میڈیا پر ڈال کر بدنام نہیں کرسکے گا اور جو وڈیو چلائے گا وہ جیل کی ہوا کھائیگا۔ ابتدا میں تو اس نئے قانون کی خوب تحسین ہوئی لیکن چند ہی دن بعد عام فرانسیسیوں کو اس قانون کے مضمرات سمجھ میں آنا شروع ہوگئے اور سوشل میڈیا پر کچھ منچلوں نے مہم شروع کر دی۔ تین ہفتہ پہلے پیرس میں مظاہرہ کیا گیا اور یہ نعرہ بڑا مقبول ہوا کہ ‘تم ہمارے سینوں کی طرف تنی بندوقیں نیچی کر لو ہم اپنے موبائل فون جیب میں رکھ لینگے’۔ پولیس نے پہلے دن تو یہ نعرے متانت کیساتھ برداشت کرلیے لیکن دوسرے روز جیسے ہی لوگ جمع ہوئے پولیس مظاہرین پر ٹوٹ پڑی۔ مظاہرین اشک آور گیس اور لاٹھی چارج سے منتشر ہوکر گلیوں میں چلے گئے اور رات گئے تک آنکھ مچولی ہوتی رہی۔ سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی گئی اور 100 سے زیادہ لوگ گرفتار ہوئے۔ اسی دوران گزشتہ ماہ کے آخر میں میں ایک مشہور سیاہ فام rapگلوکار مائیکل زکلر Michel Zecler کو پولیس نے ٹریفک کی کسی مبینہ خلاف ورزی پرروکا اور زمین پرلٹا کر اس بری طرح پیٹا کہ غریب کی پسلیاں ٹوٹ گئیں اور ایک آنکھ ضایع ہوتے ہوتے بچی۔ اسکارف پوش مسلمان بچی کو اٹھاکر پٹخنے کے منظر سے تو فرانسیسی ایک عمدہ ایکشن فلم سمجھ کر لطف اندوز ہوئے تھے لیکن پولیس کے ہاتھوں مشہور گلوکار کی درگت کے مناظر نے اسکے مداحوں کو مشتعل کر دیا اور ہفتوں سے جاری مظاہروں میں شدت آگئی۔ دباؤ اتنا بڑھا کہ مائیکل پر حملے میں ملوث چاروں پولیس افسر گرفتار کر لیے گئے۔ اب صدر میخوان سے پولیس افسر بھی ناراض ہیں کہ صدر صاحب پولیس کو مکمل اختیار دینے کے وعدے سے پیچھے ہٹ رہے ہیں تو دوسری طرف انسانی حقوق کی تنظیموں نے نئے قانون کوواپس لینے کی تحریک تیز کر دی ہے۔سول سوسائٹی کی جانب سے شروع ہونے والی اس تحریک میں اب وکلا، صحافیوں اور خواتین کی انجمن کے ساتھ عام سیاسی کارکن بھی شامل ہوگئے ہیں۔ فرانسیسی مزدروں کی وفاقی انجمنCGT نے بھی اپنا وزن شہری آزادی تحریک کے پلڑے میں ڈال دیا ہے، اتوار کی شام خبر رساں ایجنسی AFP سے باتیں کرتے ہوئےCGT کے معتمد عام فلپ مارٹینیز Philippe Martinez نے کہا کہ شہری آزادی اور مزدور تحریک ایک ہی سکے کے دورخ ہیں۔ مزدوروں سے یونین سازی کاحق اور ان کے منہ سے نوالہ چھیننے والی ظالم حکومت عوام سے حقِ آزادیِ اظہار چھین کر ملک کو قبرستان بنادینا چاہتی ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ساتھ صحافیوں کی عالمی انجمنوں نے بھی اس قانون کو انسانی حقوق اور صحافتی اور آزادی اظہار رائے کے متفق علیہ قوانین سے متصادم قراردیا ہے۔ مسلمانوں کے خلاف اقدامات کے آغاز پر میخواں نے بہت تکبر سے کہا تھا’ اسلام ساری دنیا میں بحران کا شکار ہے’ ۔ اسلام کے بارے میں انکا تجزیہ کتنا درست ہے اسکا فیصلہ تو وقت کرے گا لیکن اس بات میں کوئی شبہہ نہیں کہ ان کے مسلم دشمن اقدامات نے فرانس کو بدترین بحران میں مبتلا کر دیاا ورا سکے نتیجے میں انکی اقتدرا سے بیدخلی بھی خارج ازامکان نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے