


تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران کے دارالحکومت تہران کے مشرقی علاقے ’’تہران پارس‘‘ میں راہگیروں کے لیے بنائے گئے ایک پل پر اسرائیل کا پرچم اور اس کے حق میں بینر آویزاں کردیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق یہ دونوں چیزیں اس طرح سے پل پر لٹکائی گئیں کہ پیدل چلنے والوں اور گاڑی میں گزرنے والوں کو بآسانی نظر آ سکیں۔ اسرائیلی پرچم کے ساتھ آویزاں بینر پر ہاتھ سے انگریزی زبان میں ’’شکریہ موساد‘‘ لکھا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عبارت میں ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کی جانب اشارہ کیا گیا تھا۔ فخری زادہ کو 27 نومبر کو تہران میں چند ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیل کا پرچم مذکورہ جگہ پر آدھی رات تک لگا رہا۔ اس کے بعد پولیس نے پہنچ کر اسے وہاں سے ہٹایا۔ دوسری جانب ایک اخباری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی جوہری سائنس دان محسن فخری زادہ کی ہلاکت کے بعد رونما ہونے والے اثرات کے دائرہ کار میں ایرانی انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب کے درمیان بحران سنگین ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی وزارت انٹیلی جنس اس وقت پاسداران انقلاب کے عناصر کو طلب کرنے پر کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد کارروائی کے حالات و واقعات کے حوالے سے تحقیقات شروع کرنا ہے۔پاسداران نے اپنے عناصر کے طلب کیے جانے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔
