


نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارت میں مودی سرکار کی نام نہاد زرعی اصلاحات کے خلاف کسانوں کا احتجاج فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ مودی سرکار کو اپنے ظالمانہ قوانین واپس لینے پر مجبور کرنے کے لیے منگل کے روز کسانوں اور ان کی حمایت کرنے والے طبقات نے کامیاب ملک گیر ہڑتال کی۔ اس دوران کاروباری مراکز، دکانیں، دفاتر، سڑکیں، قومی شاہراہیں اور ریلوے ٹریک بند کردیے گئے۔ کسانوں اور مظاہرین نے آمدورفت بند کرنے کے لیے قومی شاہراہوں اور ریلوے لائنوں پر دھرنا دیے رکھا۔ حزبِ اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں، کئی ٹریڈ یونینوں اور بینک ملازمین کی یونینوںسمیت کئی تنظیموں نے اس ہڑتال کی حمایت کی۔ ہڑتال کے باعث پولیس نے دارالحکومت دہلی کی طرف آنے والے بیشتر راستے بند کر دیے اور دہلی کے چاروں جانب سیکورٹی کا سخت پہرہ ہے۔ کسانوں نے قومی شاہراہ نمبر 24 بلاک کردی۔ دہلی کے تقریباً تمام سرحدی پوائنٹس پر مختلف ریاستوں سے آنے والے کسان گزشتہ 13 روز سے دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان اس سے قبل کی کئی بات چیت ناکام ہوچکی ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ کسان تنظیموں کو بات چیت کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن مذاکرات میں کسانوں کے مطالبات پر توجہ نہیں دی جارہی۔ یہ اس سلسلے میں بات چیت کا چھٹا دور آج بدھ کے روز ہوگا۔ منگل کے روز ہونے والی ملک گیر ہڑتال کا اثر کئی ریاستوں میں شدید رہا۔ ہڑتال کے دوران کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں نے بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں بھی احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد کیا۔ ہڑتال کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں بینک اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ ٹریفک بھی بہت کم رہا، جب کہ نقل و حمل کا نظام بری طرح متاثر ہوا۔ ہڑتال کی حمایت میں ممبئی اور لکھنؤ کی بڑی سبزی، پھل اور غلے کی منڈیاں بند رکھی گئیں۔ ہڑتال سے دہلی کو دودھ، سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل بھی متاثر ہوئی۔ بعض ٹیکسی یونین بھی ہڑتال میں شامل ہوئیں، اس لیے دہلی اور قرب و جوار میں لوگوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ ہڑتال کے باعث ملک بھر میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔
