نگورنوکاراباخ (مانیٹرنگ ڈیسک) آذر بائیجان نے آرمینیا پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہآرمینیا کی افواج نے سرحدی علاقے میں ان کی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جس میں 4 آذری فوجی جاں بحق ہو گئے۔دوسری جانب آرمینیاکے حکام نے بھی آذربائیجان کی فوج پر حملے کاالزام لگایا ہے جس میں اس کے 6 اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعوٰی کیاگیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 10نومبرکو 6 ہفتوں کی خونریز لڑائی کے بعد روس کے تعاون سے آذر بائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی ہوگئی تھی،معاہدے کے تحت آرمینیا نے آذر بائیجان کو وہ علاقے واپس کیے جن پر 1990ء کی دہائی سے اس نے قبضہ کر رکھا تھا۔اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی6 ہفتوں کی جنگ میں دونوں جانب کے ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کو توڑنے کا الزام عاید کیا ہے جب کہ معاہدے کے تحت علاقے میں موجود روسی امن دستوں کی جانب سے بھی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تصدیق کی گئی ہے تاہم اس کا الزام کسی فریق پر نہیں لگایاگیا۔ دوسری جانب آذربائیجان کے صدر نے کہا ہے کہ اگر آرمینیا نے پھر سے فاشسٹ بننے اور دوبارہ ہماری سرزمین کی طرف قدم اٹھانے کا خواب دیکھا تو اب انہیں آہنی ہاتھوں سے نبٹایا جائے گااور اس بار انہیں کوئی معافی نہیں ملے گی۔ اپنی کابینہ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر الہام الائیوو نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس شکست سے آرمینیا سبق سیکھے گااور چپ کر کے بیٹھا رہے گااور دوبارہ ادھر آنے کا بالکل نہیں سوچے گااور اگر اس نے کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر ادھر آنے کی کوشش کی تو اسے ہمیشہ کے لیے یہاں سے بے دخل کر کے رکھ دیں گے۔
آذربائیجان اور آرمینیاکے درمیان نگورنوکاراباخ میں ایک بار پھرجھڑپیں
القمر
