برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین ایک ایسا قانون منظور کرنے جا رہی ہے ، جس کا مقصد فیس بک، ایمیزون اور گوگل جیسی انٹرنیٹ کی بڑی اور اجارہ دار کمپنیوں کی طاقت کو قابو کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ’’ڈیجیٹل سروس ایکٹ‘‘ کے نام سے منگل کے روز یہ قانون پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد جس کا مقصد یورپی یونین میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروبار کو کنٹرول کرنا اور ان کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد ایسی کمپنیوں کو بہت بڑے جرمانے بھی کیے جا سکیں گے۔ رائٹرز کے مطابق اس مسودۂ قانون میں عالمی انٹرنیٹ کمپنیوں پر واضح کر دیا جائے گا کہ انہیں کیا کرنے اور کیا نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ خلاف ورزی کی صورت میں انہیں کتنے بھاری جرمانے کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مسابقتی قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے سالانہ کاروبار کا 10فیصد تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ سنگین اور بار بار قانون کی خلاف ورزیوں پر کسی بھی عالمی ٹیک کمپنی کے یورپی یونین مارکیٹ میں کاروبار کرنے پر پابندی عائد کی جا سکے گی۔ بڑی ٹیک کمپنیوں کو انٹرنیٹ گیٹ کیپر کے طور پر نامزد کیا جائے گا اور اس طرح انہیں سخت ضوابط کے تابع بنایا جائے گا۔ ایسی بڑی کمپنیاں اگر کوئی دوسرا بڑا ادارہ خریدنا یا پھر 2 اداروں کا انضمام چاہیں، تو انہیں پہلے یورپی یونین کو اطلاع دینا ہو گی۔ کچھ خاص قسم کا ڈیٹا ریگولیٹرز اور حریف کمپنیوں کے ساتھ شیئر کرنا ضروری ہو گا۔ اپنے ہی کاروبار کی ترویج کرنے والی کمپنیوں کو غیر قانونی قرار دیا جا سکتا ہے۔ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے کاروبار اور ڈیٹا کے حوالے سے یورپی یونین اور امریکا کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر بڑی کمپنیاں چھوٹی حریف کمپنیوں کو خرید کر خود اپنی طاقت میں اضافہ کرتی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب فیس بک اور دیگر کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ مزید سخت قوانین کی صورت میں وہ اپنا کاروبار یورپ سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
یورپی یونین: انٹرنیٹ کمپنیوں کو قابو کرنے کا قانون پیش
القمر
