لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شجاعت حسين اور پرويز الہٰی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں نیب کو 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چوہدری بردران نے اپنے خلاف پرانی انکوائریاں کھولنے کو چیلنج کیا ہے جس میں نیب انکوائریز اور چیئرمین نیب کے اختیارات کو چيلنج کيا گيا۔
تفصیلات کے مطابق جمعرات 17 دسمبر کو ڈی جی نیب لاہور سلیم شہزاد لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ جسٹس صداقت نے استفسار کیا کہ درخواست گزاروں پر کیا الزامات ہیں۔ وکیل چوہدری برادران نے بتایا کہ غير قانونی بھرتيوں اور آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات ہیں۔
ڈی جی نیب سليم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ چوہدری برادران کے خلاف غیرقانونی بھرتیوں کا کیس بند کر دیا ہے جبکہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس زير التوا ہے۔ سال 2000 میں گجرات کے رہائشی نے چوہدری برادران کيخلاف شکايت کی تھی جس پر چیئرمین نیب نے اینٹی کرپشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا۔
ڈی جی نیب نے مزید بتایا کہ 2010 میں نیب لاہور نے چیئرمین نیب کو چوہدریوں کے کیس بارے خط لکھا اور 2014 میں ہائی لیول کمیٹی نے اس کیس کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا کہا جبکہ 2017 میں کیس دوبارہ کھلا تو چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی کو طلب کرکے اثاثوں سے متعلق پرفارما دیا گیا۔
ڈی جی نیب نے بتایا کہ چوہدری برادران کے خلاف تحقیقات 6 ماہ میں مکمل کرلیں گے، جس پر عدالت نے حکم دیا کہ بہت ہوگیا اب 4 ہفتوں میں تفتیش مکمل کریں۔ اگر ايک بندہ اثاثے ڈکليئر کرکے ٹیکس دے رہا ہے تو پھر آپ کیسے انوسٹی گیشن شروع کرتے ہیں۔
جسٹس صداقت نے ڈی جی نیب سے سوال کیا کہ آپ کے کتنے اثاثے ہیں۔ ڈی جی نیب سليم شہزاد نے جواب دیا کہ میرے 4 کروڑ کے اثاثے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ جب لیفٹیننٹ تھے تب آپ کی تنخواہ کتنی تھی،ڈی جی نیب نے بتایا کہ سر! میرے پاس اس وقت ریکارڈ نہیں ہے البتہ میں اب نیب سے 5 لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہوں۔
جسٹس صداقت علی نے کہا کہ کسی وقت تسلی سے آپ سے آپ کے بارے میں پوچھیں گے۔
دوران سماعت لاہور ہائی کورٹ نے نیب کو چوہدری برادران کيخلاف 4ہفتوں میں تحقیقات مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

