عمران خان صاحب سے جہاں اس قوم کو بہت ساری امیدیں تھیں وہاں ایک امید یہ بھی تھی کہ چوں کہ خان صاحب سابق کرکٹر ہیں تو پاکستان کو اس قابل ضرور بنا دیں گے کہ وہ دنیائے کرکٹ پہ راج کرے گا تاہم جہاں اڑھائی سال میں ان کی کارکردگی زندگی کے دیگر میدانوں میں مایوس کن رہی ایسی ہی حالت پاکستان کرکٹ ٹیم کی بھی رہی جو گزشتہ دو سال میں اس سے کہیں بری حالت میں ہے جو کہ سابقہ ادوار میں تھی۔ درحقیقت پاکستانی کرکٹ ٹیم کا جو زوال سابق کپتان صاحب کے دور حکومت میں دیکھنے کو ملا اس سے قبل کہیں نہیں ملا۔ ایک طویل عرصہ کرکٹ کے میدانوں میں گزارنے کے باوجود اگر خان صاحب کرکٹ میں بہتری نہ لا سکے تو زندگی کے باقی شعبوں میں ان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے؟
کرکٹ کی اس حالت کی ایک جھلک تو پاکستانی عوام نے ورلڈ کپ میں ہی دیکھ لی تھی اور اب رہی سہی کسر فاسٹ باؤلر محمد عامر کی ریٹائرمنٹ اور بیان نے پوری کر دی ہے۔ محمد عامر کا بیان اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ نے پاکستان کرکٹ میں بڑھتی سیاست، من پسند پالیسیوں، اقربا پروری اور سفارش کی قلعی کھول دی ہے۔ عمران خان صاحب کی کرکٹ پر مہارت کی قلعی بھی خیر اسی وقت کھل گئی تھی جب انہوں نے مصباح الحق جیسے سلو بیٹسمین کو چیف سلیکٹر کا عہدہ تھما دیا۔ موجودہ دور میں کرکٹ ایک تیز کھیل ہے جہاں مصباح الحق جیسے سلوکرکٹر کبھی بھی ٹیم کو آگے لے کر نہیں جا سکتے۔ اور دوسری جانب وقار یونس ہیں جن کا کیریر خود بھی تنازعات سے پاک نہیں رہا۔ پہلے شعیب اختر ان کی انا کے بھینٹ چڑھے اور اب محمد عامر اور پھر نہ جانے اور کتنے۔
محمد عامر جو ایک طویل عرصہ تنازعات کا شکار رہے اور بالاخر ایک ان دیکھے تنازعے کی وجہ سے ہی بہت جلد ہی کرکٹ کو خیر باد کہنے پر مجبور ہوگئے۔ انٹرنیشنل ڈیبیو سے اب تک محمد عامر کی کہانی میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں۔ کئی بار کہانی دم توڑنے کو آئی مگر نہ تو خود محمد عامر نے ہتھیار ڈالے اور نہ ہی ہم مداحوں نے کبھی مایوسی کو بند باندھنے دیا لیکن انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان وہ اینٹی کلائمیکس ہے کہ جو خود کہانی لکھنے والے کے بھی علم میں نہ تھا۔ ویسے زیادہ پرانی بات نہیں جب یہی محمد عامر پاکستان کرکٹ بورڈ کی آنکھوں کا تارہ ہوتے تھے اور جنھیں سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں دوبارہ لانے کے لیے بورڈ کی جانب سے ’فاسٹ ٹریک کوشش‘ کی اصطلاح دنیا کو سننے کو ملی تھیں۔ مگر اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔ لیکن محمد عامر وہ پہلے پاکستانی کرکٹر نہیں ہیں جو پاکستان کرکٹ بورڈ سے ناراض دکھائی دیتے ہیں۔
ان سے قبل متعدد ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں پاکستانی کرکٹرز نے کرکٹ اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے اپنے کریئر کو خطرے سے دوچار کیا۔ تاہم الزامات کی اس بوچھاڑ میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ غلطی پر کون تھا کیونکہ دونوں ہی جانب سے ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ اگرچہ بہت سارے لوگوں کا کہنا ہے کہ محمد عامر کا یہ فیصلہ جذباتی ہے تاہم اپنے یوٹیوب چینل پر محمد عامر نے ریٹائرمنٹ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرا ریٹائرمنٹ کا فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ مکی آرتھر کو اپنے پلان کے بارے میں ورلڈکپ پر ہی بتادیا تھا۔موجودہ مینجمنٹ نے اس کو ایشو بنا لیا اور میرے پیچھے پڑگئے۔میں آج بھی ون ڈے رینکنگ میں ٹاپ ٹین باؤلر میں شامل ہوں۔
محمد عامر کے اس فیصلے کی ظاہری وجہ وقار یونس کا پاکستانی میڈیا کو حالیہ انٹرویو بنا، جس میں وقاریونس نے محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کی وجہ بجائے ورک لوڈ کے ’کچھ اور‘ قرار دی تھی۔وقار یونس کے اس انٹرویو سے ایسا لگا تھا جیسے عامر پاکستان سے کھیلنے کے بجائے پیسے کے لیے کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ محمد عامر نے پچھلے سال ون ڈے ورلڈکپ کے بعد ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔ محمد عامر کے بقول ریٹائرمنٹ کی وجہ ان کا ورک لوڈ تھا۔ عامر کے مطابق ان کا جسم تینوں فارمیٹ کی کرکٹ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں رہا تھا اور وہ اپنے ون ڈے اور ٹی20 کیریئر کو طول دینے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ سے دُور ہوئے ہیں۔
عامر کو شکوہ صرف اور صرف موجودہ پی سی بی انتظامیہ اور اس کے بھرتی کیے ہوئے کوچنگ سٹاف سے ہے۔ نجم سیٹھی کے وہ آج بھی معترف ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر کوئی احسان مانی اور مصباح کے دور میں نجم سیٹھی اور مکی آرتھر کو یاد کر رہا ہے تو یہ کہیں نہ کہیں ایک ملفوف سا پیغام ہے کہ بھئی اگر وہ لوگ آج صاحبِ مسند ہوتے تو مجھے یہ ذہنی اذیت نہ سہنا پڑتی۔ خیر وجہ چاہے کوئی بھی ہو، محمد عامر جیسے بالر کا پاکستان کرکٹ سے ناراض ہو کر ریٹائرمنٹ لے لینا کوئی اچھا قدم نہیں، ماضی میں بھی جاوید میانداد، یونس خان اور شاہد آفریدی جیسے کرکٹرز دلبرداشتہ ہو کر ایسے فیصلے لے چکے ہیں تاہم اگر ماضی کی بات کی جائے تو وہ بقول موجودہ حکومت کے اقربا پروری کا دور تھا، سفارش اور پیسے کا دور تھا۔ اب تو پاکستان تحریک انصاف کا دور ہے اور ملک کے وزیر سابق کپتان ہیں اور ملک کے لیے ایک ورلڈ کپ بھی جیت چکے ہیں۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ کا ان کے دورحکومت میں بھی یہی حال ہے تو پھر پاکستانی قوم کو کرکٹ پر انا للہ ہی پڑھ لینی چاہیے۔
اتوار، 20 دسمبر 2020
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
