واشنگٹن/ ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) نو منتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی ٹیم کے چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ مشتبہ سائبر حملوں میں ملوث ہونے پر روس کے خلاف سخت موقف اپنایا جائے گا۔نامزد چیف آف اسٹاف رون کلین کا کہنا تھا کہ سائبر جاسوسی جیسی کاروائیوں کے لیے روس پر پابندیاں عائد کرنے سے بھی زیادہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔کانگریس میں دونوں جماعتوں کے ارکان نے سائبر حملوں کے لیے سخت اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب روس نے ان حملوں میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ اس حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس ان حملوں میں ملوث نہیں اوریہ الزامات بے بنیاد ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر ایسے سائبر حملوں کا انکشاف کیا گیا تھا، جس میں 50 سے زائد امریکی حکومتی اداروں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ان بدترین سائبر جاسوس حملے میں ملوث ہونے کا الزام روس پر عائد کیا تھا۔ پومیو کا کہنا تھا کہ ہم واضح طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس سائبر حملے میں روس کا ہاتھ ہے۔ تاہم امریکی صدر نے اس سائبر حملے کی سنگینی کو کم کرتے ہوئے کہا کہ معاملات قابو میں ہیں اور انہوں نے روس کے کردار پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے چین کے ملوث ہونے کا بھی اشارہ دیا۔
