English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا ویکسین کی حلال حیثیت کے بارے میں مسلمانوں کے خدشات: شفقنا خصوصی

القمر

جہاں ادویات ساز کمپنیاں کرونا ویکسین کی تیاری میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے اور مختلف ممالک کے مابین اس کے حصول کے لیے دوڑ لگی ہے وہیں پراس ویکسین میں خنزیر کے گوشت  سے بنی مصنوعات نے ان ویکسینوں کے استعمال پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

خنزیر کے جسم سے حاصل کردہ جیلاٹن عام طور پر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ سٹوریج اور ترسیل کے دوران ویکسین محفوظ اور قابل عمل رہے۔ بہت ساری ادوا ساز کمپنیاں ایک طویل عرصے سے سور کے اجزا سے پاک ویکسینز بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

سوئس فارماسیوٹیکل کمپنی نوارٹس نے گردن توڑ  بخار کے لیے سور کے اجزا سے پاک ویکسین تیار کی ہے جبکہ سعودی عرب اور ملائشیا میں قائم اے جے فارما بھی اسی ضمن میں کام کر رہی ہےبرٹش اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر سلمان وقار کے مطابق ویکیسنز کی بڑھتی ڈیمانڈ، موجودہ سپلائی چین، قیمت اور سور سے حاصل کردہ جیلاٹن کی عدم موجودگی میں ویکسین کی مختصر زندگی کا مطلب ہے جیلاٹن کو ویکسین سے نہیں نکالا جا سکتا۔

جیلاٹن سے پاک سرٹیفائڈ

فائزر کے ترجمان موڈرنا اور استرازانیکا کا کہنا ہے کہ سور کے اجزا ہماری ویکسین کا حصہ نہیں ہیں۔ تاہم اس ویکسین کی محدودیت اور دوسری کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کی ڈیلز کامطلب ہے کہ مسلم اکثریت کے بعض ممالک جیسا کہ انڈونیشیا وغیرہ اس ویکسین کا استعمال کریں گی حالانکہ ابھی تک اس کو جیلاٹن سے پاک ہونے کا سرٹیفیکیٹ نہیں دیا گیا۔

اس سے مذہبی معاشروں خاص طور پر کٹٹر یہودیوں اور مسلمانوں کے لیے مسئلہ پیدا ہو گیا ہے کئونکہ یہودی اور مسلمان دونوں کے لیے سور کی مصنوعات  کا استعمال مذہبی طور پر ممنوع ہے اور اب دیکھنا ہے کہ ادویات پر مذہبی پابندی کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

وقار کے مطابق مذہبی سکالرز کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا مختلف کیمیائی عوامل سے گزرنے کے بعد جیلاٹن کا استعمال جائز ہے یا نہیں۔ کیا یہ مذہبی طور پر اس کے بعد بھی نجس تصور کیا جاتا ہے؟

انجیکشن بمقابلہ ادخال

یونیورسٹی آف سڈنی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید کے مطابق ماضی میں ویکسین میں سور کے گوشت کے اجزا کے استعمال پر ہونے والی مباحثوں  میں اس بات پر اتفاق رائے طے پایا کہ اسلامی قوانین میں اس بات کی چھوٹ ہے کہ اگر ویکسین کا استعمال نہ ہو تو بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔

کٹٹر یہودی کمیونٹی میں بھی اس طرح کی ویکسینز کے بارے میں یہی رائے پائی جاتی ہے اور مذہبی حلقوں کا اس بات پر اتفاق ہے ۔یہودیوں کے ایک ربی ڈیوڈ سٹیو کے مطابق یہودی مذہبی قوانین میں سور کے گوشت کا استعمال صرف اسی صورت میں ممنوع ہے جب اس کو کھانے کے لیے قدرتی طور پر استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس کو جسم میں انجیکٹ کیا جائے اور منہ کے زریعے نہ کھایا جائے تو نہ تو اس کے استعمال میں کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی پابندی اور خاص طور پر جب مسئلہ بیماری کا ہو تو اس کے استعمال کی ہر گز ممانعت نہیں ہے۔

ویکسین کے استعمال میں ہچکچاہٹ

انڈونیشین علما کونسل جو کہ مسلم علما کی ایک تنظیم ہے اور مصنوعات کے حلال ہونے یا اسلامی قوانین کے تحت ممنوع نہ ہونے کا سر ٹیفیکیٹ جاری کرتی ہے نے 2018 میں جیلاٹن کے استعمال کی وجہ سے خسرہ اور خسرہ کاذب کی ویکسینز کو حرام قرار دیا تھا۔ جس کے بعد مذہبی اور معاشرتی رہنماوں نے والدین پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے بچوں کو یہ ویکسین استعمال نہ

جب انڈونیشیا میں خسرہ کے کیسز میں اضافہ ہوا تو بعد میں اسی مذہبی تنظیم نے ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی تاہم ثقافتی اور عقائد کےمسائل کی وجہ سے لوگوں نے اس ویکسین کا استعمال حتی المقدور کم کر دیا۔

والدہن کے لیے سخت قوانین

اس قسم کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومتیں سخت اقدامات کر رہی ہیں۔ ملائشیا میں جہاں والدین کے لیے کسی بھی ویکسین کا حلال ہونا بہت اہمیت کا حامل ہے وہاں حکومت نے والدین کے لیے سخت اقدامات کر رکھے ہیں۔ ویکسین کے عدم استعمال پر انہیں جرمانے یا جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں جہاں سیاسی اور مذہبی وجوہات کی بناء پر ویکسین کے متلعق  پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں وہیں اپنے بچوں کو پولیو جیسی ویکسینز کے استعمال سے انکار پر والدین کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں ویکسین کے حصول میں جلدبازی اور غلط معلومات کی بنا پر خاص کر مذہبی حلقوں میں ویکسیین سے متعلق شبہات  کی وجہ سے معاشرے کے لیے آگاہی اور اسے ساتھ لے کر چلنا بہت ضروری ہے۔ اگر حکومت اور ہیلتھ کئیر ورکرز کی جانب سے معاشرے کو ساتھ لے کر نہ چلا گیا تو یہ خطرناک ہو سکتا ہے۔

مذہبی جماعتوں کا جائزہ

انڈونیشیا میں حکومت نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے وہ کرونا وبا کی ویکسین کے حصول اور سرٹیفیکیٹ  کے لیے مذہبی باڈی سے رابطہ کرے گی۔ اکتوبر میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ودودو نے کہا تھا کہ وہ ویکیسن کے حلال ہونے سے متعلق عوا سے رابطے ، ویکسین کی قیمت ، معیار اور تقسیم کے حوالے سے مکمل طور پر تیار رہیں گے۔  انڈونیشیا کے مذہبی پیشواؤں نے چین کے دورہ کے دوران چین کی بائیو ٹیک کمپنی کا معائنہ بھی کای تھا اور اس کے کلینکل ٹرائلز بھی دیکھے تھے  جب کہ چینی ویکسین کے لیے 1620 انڈونیشی رضاکاروں پر اس کے تجربات بھی شروع ہو چکے ہیں۔ انڈونیشیا کی حکومت نے اس ویکسین کی لاکھوں خوراکوں کے لیے چینی کمپنی سے معاہدہ کر رکھا ہے۔

واضح رہے کہ چینی کمپنی سینوک بائیو ٹیک اور دیگر دو کمپنیوں سنو فارما اور کین سنو بائیولوجکس کرونا ویکسین پر کام کر رہی ہیں اور ان کی ویکسین تجربے کے آخری مراحل میں ہے اور چین دنیا کے ساتھ اس کی لاکھوں خوراکوں کے معاہدے کررہا ہے تاہم چین نے اس کے اجزا کے حوالے سے ابھی تک کوئی بات نہیں کی۔ دوسری جانب پاکستان بھی کین سنو بائیولوجکس ویکسین کے اختتامی تجربات کے مراحل میں ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی سنو ویک بائیو ٹیک کے ساتھ ویکسین کے لیے معاہدہ کیا تھا تاہم اس کے تجربات میں تاخیر کی وجہ سے یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔

انڈونیشیا میں ایک طرف تو صحت کے کارکنان کرونا پر قابو پانے کی اپنی کوششوں میں مصروف ہیں تاہم دوسری طرف کرونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔  ایسے حالات میں جب تک حکومت اپنے شہریوں کو ویکسین کے حوالے سے یقین دہانی نہیں کرا لیتی تب تک کرونا پر قابو کی مہم کامیاب نہیں ہوسکتی۔ تاہم یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس مقصد کے لیے ویکسین تیار کرنے والی کمپنیاں بھی عوام کو اعتماد میں لے کر آگے بڑھیں۔ کیونکہ آخر کار یہ لوگوں کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ کرونا کی ویکسین کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

پیر، 21 دسمبر 2020

شفقنا اردو

ur.shafaqna.com

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے