English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیر اعظم کابنی گالہ کا گھر ریگولرائز کرنا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے

القمر

لاہور (نمائندہ جسارت) امیرجماعت اسلامی صوبہ وسطی پنجاب و صدر ملی یکجہتی کونسل پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ سی ڈی اے کی جانب سے اسلام آباد کا ماسٹر پلان پر نظر ثانی مکمل کیے بغیر وزیر اعظم کابنی گالہ کا گھر ریگولرائز کرنا قانون کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے۔ اس امتیازی سلوک کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک طرف حکام غریبوں کے گھر ، جھونپڑیاں اور کاروباری جگہوں کو مسمار کررہے ہیں اور دوسری طرف معمولی سا جرمانہ کرکے گیارہ ہزار سے زائد مربع فٹ کا محل قانونی بنادیا گیا ہے۔ اس عمل سے دونہیں ایک پاکستان کاتا ثر بری طرح مجروح ہوا ہے۔ ثابت ہوگیا ہے کہ وزیرا عظم عمران خان اور ان کی ٹیم اسٹیٹس کو کی محافظ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جس ظالمانہ نظام کو مضبوط کیا جارہا ہے۔ ہم اس استحصالی نظام کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک فرسودہ نظام قائم ہے جمہوریت کے اثرات عوام تک نہیں پہنچ سکتے ۔ محمد جاوید قصوری نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ملک میں بیڈ گورننس کی ایک لمبی فہرست ہے۔ عوامی مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ اداروں میں کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ جس ادارے نے وزیر اعظم کے گھر کو ریگولرائز کیا اس کے 282ملازمین کے خلاف بد عنوانی ، اقربا پروری ، کرپشن اور دیگر الزامات کے تین سو کے قریب تحقیقات زیر التوا ہیں۔ کئی برسوں سے جاری تحقیق ہنوز جاری ہے۔اب تک ان کے خلاف محکمانہ کارروائی نا ہونا انتہا ئی افسوسناک امر ہے۔اگر حکومت وفاقی وزراء اور بیوروکریسی کی کرپشن کو نہیں روک سکتی تو وہ کیسے ملک میں احتساب کا شفاف نظام قائم کر سکتی ہے ۔احتساب کا نعرہ بھی اب مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔حکومتی صفوں میں موجود کرپٹ عناصر نے نام نہاد تبدیلی کے فلسفے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے