ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک) روس نے اپوزیشن رہنما الیکسی ناولنی کو مبینہ طور پر زہر دینے کا ا لزام عائد کیے جانے پر یورپی حکام پر سفری پابندیاں عائد کردیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کے ماسکو حکام نے پابندی کے تحت آنے والے یورپی عہدے داروں کو پہلے روس کی مخالفت کے الزام میں عدالت میں طلب اور نہ حاضر نہ ہونے پرپابندیوںکا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ناولنی کا الزام مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ اس سے قبل الیکسی ناولنی نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا تھا کہ روسی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ نے انہیں بتایا کہ دیگر چیزوں کے ساتھ زہر ان کے زیر جامہ رکھا گیا تھا۔ ناولنی نے بتایا کہ انہوں نے روسی ایجنٹ سے معلومات حاصل کرنے کے لیے خود کو سیکورٹی کا سینئر عہدیدار ظاہر کیا۔ تاہم سیکورٹی سروس ایف ایس بی نے ریکارڈنگ کو جعلی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا تھا کہ ناولنی کو نفسیاتی مسائل کا سامنا ہے اور ان میں خودنمائی کی نشانیاں بھی واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ ادھر ٹوئٹر پر ناولنی کی ترجمان کیر یارمیش نے بتایا کہ روسی صدر کے ترجمان پر بات کو بڑھا چڑھا کر کہنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس کیس کو مذاق قرار دینا کریملن کی جانب سے سچ کو دھندلا کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیوٹن نے خود حال ہی میں تصدیق کی تھی کہ روسی ایجنٹ ناولنی پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ پیوٹن کے سب سے بڑے ناقد ناولنی کو اگست میں کومے کی حالت میں طبی امداد کے لیے جرمنی منتقل کردیا گیا تھا۔ جرمن ماہرین کا کہنا تھا کہ ناولنی کو نوویچوک کی طرح کا زہر دے کر جان سے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس بیان کو کئی مغربی ممالک نے تسلیم کر لیا تھا۔ سوویت دور کے نوویچوک زہر کو 2018 ء میں برطانیہ میں سابق روسی جاسوس سرگئی اسکریپل اور ان کی بیٹی پر استعمال کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ روس اور یورپی یونین کے درمیان پہلے ہی بالٹک خطے میں عسکری قوت بڑھانے پر کشیدگی پائی جاتی ہے۔
