رباط (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا اور اسرائیل کے اعلیٰ عہدے داروں کو لے کر پہلی اسرائیلی پرواز مراکش پہنچ گئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگل کے روز تل ابیب سے اڑنے والی اس پرواز پر اسرائیل کے مشیر قومی سلامتی مائیر بن شبات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرقِ وسطیٰ جیرڈ کشنر کی قیادت میں دونوں ممالک کے اہم حکام سوار تھے۔ امریکی اور اسرائیلی وفود نے مراکش کے سابق شاہان حسن ثانی اور محمد خامس کی قبروں پر پھول چڑھا کر اپنے دورے کا آغاز کیا۔ اس کے بعد وہ مہمانوں کے لیے مخصوص محل گئے، جہاں ان کے اعزاز میں تقریب منعقد کی گئی، جس میں شاہ محمد سادس نے ان سے ملاقات کی۔ اس دورے کا مقصد شہری ہوابازی، سیاحت، صحت، پانی، زراعت اور دیگر اہم شعبوں میں معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے کئی معاہدوں پر دستخط بھی متوقع ہیں۔ روانگی سے قبل بن گورین ائرپورٹ پت جیرڈ کشنر کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ہمارے پاس کئی معاہدے ہیں، جنہیں ہم اپنے اس دورے کے دوران پایہ تکمیل تک پہچانا چاہتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارے اس دورے سے امن کی راہ ہموار ہوگی۔ اس موقع پر اسرائیلی مشیر مئیر بن شبات نے کہا کہ ہماری نگاہوں کے سامنے تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ مراکش نے امریکی ثالثی کے نتیجے میں 10 دسمبر کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ مراکش سے قبل اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان بھی اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی اور تجارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان کرچکے ہیں، اور ان ممالک نے اسرائیلی پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود بھی کھول دی ہیں۔ جب کہ ان سے قبل صرف مصر، اردن اور ترکی اسرائیل کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے۔