گوادر(آن لائن)نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ جب وہ وزیراعلیٰ تھے تو بھی گوادر کا اصل ماسٹر پلان دکھایا نہیں گیا ،جو نقشہ ہمیں دکھایا گیا تھا اس میں باڑ کا ذکر کہیں پر بھی نہیں تھا ،گوادر کو گوانتامو جیل بنایاگیا ہے ، لوگوں پنجرے میں بند کردیاگیاہے گوادر کے لوگوں کو دھوکے میں رکھ کر انکی قیمتی زمین کم قیمت پر خریدی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اتنے بھی کمزور نہیں کہ ہمیں ہمارے گھروں سے بے دخل کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد گوادر پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔پریس کانفرنس میں پی ڈی ایم ضلع گوادر کے صدر عبدالحمید انقلابی،پی پی پی کے اعجاز بلوچ،ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی،سینیٹر کہدہ اکرم دشتی ،اشرف حسین اور دیگر رہنما بھی موجود تھے ۔سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں گوادر کے سادہ لوح لوگوں کی زمین اونے پونے داموں خریدی گئی بعد میں تمام اداروں نے ڈپٹی کمشنر گوادر کے ذریعے قبضہ کیا گوادر میں مقیم چائنیز کے پاس تو کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہے جب وزیراعلیٰ تھا تو میں بھی وہاں نہیں گیا، ہم نے پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت بلاول زرداری،مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن سے کہا کہ وہ پی ڈی ایم کا جلسہ گوادر میں بھی کریں تاکہ وہ دیکھیں کہ گوادر کو گوانتامو جیل بنایاگیا ہے ۔ ایم پی اے گوادر میر حمل کلمتی نے کہا کہ گوادر میں اتنی سخت سیکورٹی ہے کہ لوگوں کا جینا دوبہر ہوگیا ہے ،ماہی گیروں کی شکار گاہ ان سے چھین لی گئی ، پکنک پوائنٹ چھین لیے گئے ہیں یہ کیسی ترقی ہے جو ان سے سب کچھ چھین رہی ہے ،باڑ کو روکنے کے لیے اگر ہمیں سڑکوں پر بھی آنا پڑے ہم نکلیں گے ۔
