پاکستان میں حرام اشیاء کی روک تھام کے لیے 4 سال سے کاغذوں تک محدود حلال فوڈ اتھارٹی قائم کر دی گئی۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی ہلال فوڈ اتھارٹی اختر بھو گیو نے بتایا کہ ملک ميں حرام اشياء کی روک تھام کيلئے کام کيا جائے گا اور صرف 6 ماہ میں اشیاء کو حلال سرٹیفکیٹ دينا شروع کر ديں گے۔
نجی ٹی وی کی کے مطابق ڈی جی ہلال فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ کوئی امپورٹڈ چیز بغیر پاکستانی حلال سرٹیفکیٹ ملک میں نہیں آسکے گ جبکہ کاسمیٹکس، بچوں کا دودھ، بسکٹس اور کھانے پینے کے آئٹمز پہلے چیک ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق انہوں نے بتایا کہ حلال سرٹيفکيٹ نہ ہونے والوں پر پابندی لگا دی جائے گی اور سامان کی سرٹيفکيشن نہ ہونے پر واپس بھيجا جائے گا۔ شہری موبائل ايپ کے ذريعے بارکوڈ ٹريس کرسکيں گے جس سے شہری خود پہچان سکیں گے کون سی چیز حلال ہے اور کب بنی ہے۔
ڈی جی ہلال فوڈ اتھارٹی کے مطابق دنیا میں حلال فوڈ کی 3 کھرب ڈالر سے زائد مارکیٹ ہے اور حلال فوڈ اٹھارٹی بنانے کا مقصد برآمدات کو بڑھانا ہے۔
پہلی حلال فوڈ اتھارٹی کا انفراسٹرکچر تيار کر لیا گیا ہے جس کے آفسز بھی کھل گئے ہیں۔

