

اسلام آباد: پی ڈی ایم کی حکومت مخالف تحریک پر وزیراعظم عمران خان نے پارٹی رہنمائوں کا آج اجلاس بلالیا.
تفصیلات کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد میں بننے والی پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت مخالف تحریک سمیت سیاسی صورتحال پر وزیراعظم عمران خان نے تبادلہ خیال کرنے کے لیے پارٹی رہنمائوں اور ترجمانوں کا اجلاس طلب کرلیا.
طلب کیے گئے اجلاس میں مشاورت ہوگی کہ اپوزیشن کے خلاف حکومتی بیانیہ کیسے بہتر کرنا ہے جبکہ معاشی میدان میں حکومتی کامیابیوں پرترجمانوں کو آگاہ کیاجائیگا.
یاد رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی برسی پر پی ڈی ایم نے گڑھی خدابخش میں جلسہ منعقد کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم سے مستعفی ہونے اور دوبارہ عام انتخابات کا مطالبہ کیا گیا۔
سابق صدر مملکت آصف علی زرداری بذریعہ وڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو نکالنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اور ہم ایک دوسرے کو نہ بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے، یہ کرکٹ ٹیم والے ہیں، ملک چلانے کے لیے اور لوگ چاہییں، میں نے پہلے دن اسمبلی میں کہا ملک چلا لو یا نیب چلا لو، نیب نے بلیک میلنگ شروع کردی ہے۔
ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کا جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران خان نے این آر او مانگنے کے لیے اپنے میسنجر کو جیل میں شہباز شریف کے پاس بھیجا مگر اس ہارے ہوئے اور تنہا کھڑے ہوئے شخص کو کوئی این آراو نہیں دے گا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اگر 31 جنوری تک عمران خان نے استعفا نہ دیا تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریکیاں چھٹنے والی ہیں، چوروں کے اس ٹولے کا وقت ختم ہوگیا، دمادم مست قلندر کا نعرہ لگا کراِس کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔
