پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا ہے کہ برطانیہ سے آئے افراد کو ٹریس کرکے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جبکہ ابھی سائنسی شواہد نہیں کہ برطانیہ سے کورونا وائرس پاکستان آیا ہو.
پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر نوشین حامد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ سے آنے والے بہت سارے لوگ ٹریس ہوگئے ہیں اور ان کے ٹیسٹ کیے جارہے ہیں اور ان افراد کا ڈیٹا مقامی انتظامیہ،ڈپٹی کمشنر کو دے دیا گیا ہے.
انہوں نے کہا کہ ویکسین ساز کمپنیوں کا اندازہ یہی ہے کہ ویکسین وائرس کی نئی شکل پربھی موثرہوگی، حکومت جو ویکسین منگوائے گی وہ عوام کو بالکل مفت دی جائے گی، کورونا ویکسین 65 برس سے زائد افراد کے ساتھ ساتھ محکمہ صحت کے پروفیشنلز کو بھی مفت لگائی جائے گی.
ڈاکٹرنوشین حامد کا مزید کہنا تھا کہ کورونا ویکسین حکومت منگوائے گی جس کے لیے 150 ملین ڈالرمختص کیے ہیں اور پرائیوٹ سیکٹر کو بھی ویکسین منگوانے کی اجازت دی گئی ہے، پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے منگوائی گئی ویکسین بھی کم دام میں ملے گی.
واضح رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 4 لاکھ 73 ہزار 309 ہوگئی اور 9,929 مریض انتقال کرگئے جبکہ فعال کیسز کی39 ہزار488 ہوگئی.

