سال 2020 اپنے اختتام پر ہے اور پاکستان تاحال اپنے جی ڈی پی کا صرف 8۔0 فیصد صحت پر خرچ کر رہا ہے اور اس خطرناک وبا کے باوجود اس میں اضافہ نہیں ہوا اور نہ ہی صحت کے بجٹ میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو آئی۔اکستان میں کرونا کی دوسری لہر نے تباہی مچا رکھی ہے جس سے صحت کا نظام مسلسل دباو کا شکار ہے جبکہ پاکستان ابھی اس کے پہلے جھٹکے سے بھی نہیں سنبھلا۔پشاور کا سانحہ ہمارے سامنے ہے جب مقامی طور پر آکیسجن کی سپلائی دستیاب نہ ہونے سے اکسیجن سلنڈر بروقت ہسپتال تک نہ پہنچائے جا سکے اور سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔
ابتدا میں پاکستان کے پاس حفاظتی سامان جیساکہ حفاظتی لباس، ذاتی تحفظ کے لیے اشیا ق وغیرہ ہی دستیاب نہ تھیں جس کی وجہ سے صحت کے کئی کارکنان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس کے بعد وینٹیلیٹرز کی دستیابی ایک اور بڑا مسئلہ تھا جس کو این سی او سی نے فوری طور پر باہر سے منگوایا جس کے بعد اس کی ملک میں تیاری کا کام کسی حد تک شروع ہوا۔
اس کے علاوہ رینل ریپلسمینٹ تھیراپی کا بھی کوئی مناسب نظام نہ تھا ۔ اس کے علاوہ آکسیجن کی فراہمی کے مسائل بھی تھے۔ سامان اور دیگر ضروری اشیا کے علاوہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں اعلی تجربہ کار فزیشن، نرسنگ اور نظام تنفس سے منسلک ماہرین کی کمی بھی تھی جس سے کرونا کے بہترین سنٹرز کا قیام عمل میں نہ لایا جا سکا۔
اگرچہ صحت کے نظام کی ناکامی دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھنے کو آئی تاہم پاکستان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس کی زیادہ تر آبادی نوجوان نسل پر مشتمل تھی نہ کہ بزرگوں پر جس طرح ا ٹلی، امریکہ اور برطانیہ کی تھی۔اب پاکستان مختلف ذرائع سے ویکسین کے حصول کے لیے کوشاں ہے کیوں کہ ذاتی طور پر پاکستان کوئی ایسا پروگرام شروع ہی نہ کر سکا حالانکہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سےاپنے جامعات میں اعلی ڈاکٹریٹ پروگرامز اور اعلی تعلیم یافتہ سٹاف کے بارے میں بڑے بڑے دعوےکر رہا ہے۔ تاہم فنڈنگ کی کمی اور انفرا سٹرکچر کی عدم موجودگی میں ویکسین کی تیاری کوئی حقیقت پسندانہ عمل نہ تھا۔
درحقیقت پاکستان کی زیادہ تر طبی فیکلٹی ٹریننگ کی کمی اور طبی تعلیمی ترجیحات کی وجہ سے کسی بھی قسم کے کلینیکل ٹرائلز کے قابل نہیں ہے۔پاکستان کو اپنے شکستہ نطام صحت، قومی ترجیحات، صحت کے نظام کی فنڈنگ اور مکمل ساختی تبدیلیوں کے لیے فوری اور جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ کرونا کی موجودہ مخدوش صورتحال کے پیش نظر پاکستان کو اس پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ پاکستان کی بقا اور اس کی ہیلتھ سیکورٹی کا سوال ہے۔ کیا پالیسی میکرز اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟ کیال پاکستان 2020 سے کوئی سبق سیکھے گا؟
