

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)اسلامی جمعیت طلبہ نے پیر کو گورنر ہائوس کے باہر شہر کراچی کے تعلیمی مسائل پراحتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں شہرکراچی کے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے طلبہ طالبات نے کثیر تعداد میںشرکت کی۔ احتجاج میں شریک طلبہ و طالبات نے پاکستان میڈیکل کونسل کے تحت لیے جانے والے میڈیکل داخلہ ٹیسٹ MDCAT میں ہونے والی تعلیمی اور انتظامی بے ضابطگیوں کو عیاں کر کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج کو ماننے سے انکار کردیا۔ احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات نے پاکستان میڈیکل کونسل کے علاوہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کے ظالمانہ اقدام کے خلاف بھی پلے کا رڈ اٹھا رکھے تھے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اسلامی جمعیت طلبہ کراچی حافظ عمر احمد خان کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان میڈیکل کونسل کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پی ایم ڈی سی کو فوراً بحال کرکے اس کے تحت دوبارہ داخلہ ٹیسٹ لیا جائے، اس کے علاوہ ایچ ای سی کے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کے ظالمانہ اقدام کو فی الفور واپس لیا جائے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ سرکاری جامعات میں شہر کے متوسط طبقے کے طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں، لہٰذا ہم شہر کی سب سے بڑی سرکاری جامعہ کی فیس میں اضافے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ اُنھوں نے احتجاجی طلبہ کو یقین دلایا کہ اگرایچ ای سی، پی ایم سی اور جامعہ کی فیسوں میں اضافے کے اقدام واپس نہیں لیے گئے تو ہم گورنر ہاؤس کا گھیراؤ کریں گے۔عمر احمد خان نے کہا کہ طلبہ کا تعلیمی استحصال کیا جا رہا ہے ، پی ایم ڈی سی کا نظام پی ایم سی سے بہتر تھا ، اسلامی جمعیت طلبہ MDCATکے متاثرہ طلبہ کے ساتھ ہے ، مسئلہ حل ہونے تک جدوجہد جاری رہے گی، سیفی کالج کی نجکاری کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں گرفتار طالب علموں کو فوری طور پر رہا کیا جائے ، اسلامی جمعیت طلبہ کی تاریخ رہی ہے کہ جب بھی طلبہ کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کی گئی تو جمعیت میدان عمل میں کھڑی رہی ۔
