English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دینی ، سیاسی و قوم پرست جماعتوں نے پاکستابن آئی لینڈ ڈیولیمنٹ آرڈیننس مسترد کردیا

کراچی: جزائر سے متعلق صدارتی آرڈیننس پر سیمینار میں جلال محمود شاہ، محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، یوسف مستی خان ودیگر رہنما شریک ہیں

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مختلف سیاسی،دینی جماعتوں، قوم پرست پارٹیوں کے مرکزی رہنماؤں، ماہرین قانون اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے صدارتی آرڈیننس کے تحت پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کسی علاقے کے جغرافیہ میں تبدیلی کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے نائب امیر اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ،سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ، نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر
عبدالمالک بلوچ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر قادر مگسی، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر جہانزیب بلوچ، معروف قانون دان شہاب اوستو، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرصلاح الدین، عوامی ورکرز پارٹی کے یوسف مستی خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری یونس بونیری، جے یوآئی کے مولانا تاج محمد ، مسلم لیگ ن کے نہال ہاشمی ودیگر نے کراچی کے مقامی ہوٹل میں پاکستان آئی لینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020ء، وفاقی حکومت کے سندھ اور بلوچستان ساحلی پٹی اور جزائر پر قبضہ اور ملکیت کے حقوق کے سوال پر منعقدہ ایک روزہ نیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اسد اللہ بھٹو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کو سندھ کی تاریخ کے بارے میں کچھ علم نہیں‘ ہم سندھ کے جرائر کی زمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کریںگے ‘ وفاق کا کا م صوبوں کے درمیان کے رابطہ کرنا ہے ان کے وسائل پر قبضہ کرنا نہیں‘ جب تک دنیا قائم ہے تب تک سندھ قائم رہے گا‘ سینیٹ میں سراج الحق نے سب سے پہلے جزائر کے معاملے پر آواز اٹھائی ہے‘ جزائر سندھ کی ملکیت ہیں‘ ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمے داری ہے‘ صوبے کے حق پر کسی کو ڈاکا نہیں ڈالنے دیں گے‘ کسی کی زمین پر قبضہ کرنا گناہ ہے‘ سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائیں۔ سید جلال محمود شاہ نے کہا کہ اگر اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم سنجیدگی سے سمندری جزائرکا معاملہ اپنے ایجنڈے میں شامل کرتا ہے تو ہم پی ڈی ایم کا ساتھ نبھانے کے لیے تیارہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سندھ کے مسائل بلوچستان کے مسائل سے الگ نہیں ہیں‘جب یہ آرڈیننس آیا اسی دن ہم نے اس کو سینیٹ میں مسترد کیا‘ہم اس ملک میں رہنا چاہتے ہیں لیکن سر اٹھا کرجئیں گے۔ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے کہا کہ18ویں ترمیم کے تحت 12 ناٹیکل میل تک سمندی حدود صوبے کا حصہ ہے‘ اس کے علاوہ کوئی بھی پیمانہ ہم نہیں مانیں گے ۔ ڈاکٹر قادر مگسی نے کہا کہ جارحیت اور جبر سے ملک نہیں چلے گا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے