English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لاہور ہائیکورٹ :حکومت کو انٹر نیٹ سے تمام توہین آمیز مواد ہٹانے کا حکم

لاہور (نمائندہ جسارت)لاہور ہائیکورٹ نے انٹرنیٹ سے توہین آمیز مواد ہٹانے کے لیے دائر درخواست پر ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے سمیت دیگر حکام کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ملک میں جتنے قوانین ہیں کیا ان کا نفاذ کرانا حکومت کی ذمے داری نہیں،حکومت کھل کہ بیان دے دے کہ اس نے کچھ نہیں کرنا۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے توہین آمیز مواد ہٹانے کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت کی ۔دوران سماعت ڈی جی ایف آئی اے سمیت دیگر افسر ان عدالت میں پیش ہوئے۔وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ مواد ہٹانے کے معاملے پر ایف آئی اے نے ہی کارروائی کرنی ہے ۔چیف جسٹس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دن بدن معاملہ خراب ہو رہا ہے ،اگر کوئی بیرون ملک سے بیٹھ کے توہین آمیز مواد پاکستان میں پھیلائے تو ایف آئی اے کیا کرے گا؟کیسی مدینہ کی ریاست ہے کہ بنیادی ذمے داری ہی پوری نہیں کر رہے۔انہوں نے ریمارکس میں قرار دیا کہ ایف آئی اے میں ایسا ونگ ضرور ہونا چاہیے جو توہین آمیز مواد چیک کرے اور اسے ہٹائے۔چیف جسٹس نے حکم دیا کہ حکومت تمام توہین آمیز مواد کو ہٹا دے یا سسٹم بند کر دے،ایف آئی اے نے بھی رپورٹ جمع کرا کر اپنی جان ہی چھڑائی ہے ۔ دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ کیا گوگل اتھارٹی کے خلاف پرچہ ہو سکتا ہے ؟۔ فاضل عدالت نے اس قانونی نکتہ پر معاونت طلب کرتے ہوئے سماعت30دسمبر تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے