اسلام آباد (اے پی پی) قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ جس میں جعلی بینک اکائونٹس کیس میں اعجاز ہارون سابق چیئرمین پی آئی اے، عبدالغنی مجید اور دیگرکے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ملزمان پر غیر قانونی طور پراوورسیز کوآپریٹو ہاسنگ سوسائٹی لمیٹڈ (کڈنی ہلز) کراچی کے پلاٹس کی جعلی الاٹمنٹ اور فیک بینک اکائونٹس سے ادائیگی کرنے کا الزام ہے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ اجلاس میں فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہائوسنگ فانڈیشن کے افسران/ اہلکاران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی۔ نیبایگزیکٹو بورڈ نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرینز کے تقدس اور احترام پر یقین رکھتا ہے‘ بزنس کمیونٹی ملک کی ترقی میں اہم کردارا دا کرتی ہے‘ نیب اس بے بنیاد تاثر کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ
نیب کی وجہ سے بزنس کمیونٹی کو کوئی پریشانی ہے۔ نیب نے وضاحت کی ہے کہ اس کی تحویل میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ نیب نے بعض عناصر کی طرف سے اس حوالے سے پروپیگنڈا یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی گمراہ کن اور من گھڑت مہم، نیب کو اپنے آئینی اور قانونی فرائض کی انجام دہی سے نہیں روک سکتی‘ اس سلسلے میں نیب کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف نیب آرڈیننس کی شق31(a) کے تحت قانون کے مطابق تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا کہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 714 ارب روپے بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں۔
