لاہور(نمائندہ جسارت)لاہور کی احتساب عدالت نے صوبائی وزیر پنجاب سبطین خان سمیت 8افسران کو طلبی نوٹسز جاری کردیے ہیں جن میں انہیں 4 جنوری کو احتساب عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیاہے۔ بتایا گیا ہے کہ نیب لاہور نے صوبائی وزیر سبطین خان
سمیت 8 افسران کے خلاف ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کردیا ہے۔ دائرکیا گیا ریفرنس 2 فولڈرز پر مشتمل ہے جب کہ نیب نے سابق چیئرمین پی این ڈی سمیت دیگر افسران کو ریفرنس میں نامزد کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیںاحتساب عدالت نے غیر قانونی طور پر آمدن سے زاید اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتارمسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کو تفتیش کے لیے 14روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔عدالت نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر ملزم خواجہ آصف کو 13 جنوری کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔یاد رہے کہ نیب لاہور کی ٹیم نے منگل کو خواجہ آصف کو اسلام آباد سے گرفتار کیاتھا جہاں انہیں فوری راولپنڈی نیب دفتر منتقل کرنے کے بعد بدھ کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے لاہور لانے کے لیے راہداری ریمانڈ حاصل کیا تھا۔جمعرات کو نیب لاہور کے حکام نے خواجہ آصف کو سخت سیکورٹی حصار میں احتساب عدالت میں پیش کیا اور ان سے غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی۔خواجہ آصف کے وکیل نجم الحسن نے اس کی مخالفت کی اور اسے بلاجواز قرار دیا۔ نیب کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ خواجہ آصف نے 80 کروڑ سے زاید کے اثاثے بنائے ہیں جو ان کی آمدنی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ نیب کے وکیل نے نشاندہی کی کہ خواجہ آصف مواقع فراہم کرنے کے باوجود اپنے اثاثوں کے بارے میں نیب کو مطمئن نہیں کرسکے ۔ نیب لاہور کے تفتیشی افسر نے گرفتار خواجہ آصف کے15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا کہ خواجہ آصف 1991ء میں سینیٹر بنے اور اس وقت ان کے مجموعی اثاثے51 لاکھ روپے کے تھے جبکہ 2018 ء تک ان کے اثاثے 221 ملین تک پہنچ گئے جو ملزم کی ظاہری آمدن سے مطابقت نہیں رکھتے۔خواجہ آصف کے خلاف تفتیش میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات کی ایمیکو کمپنی کی ملازمت سے 13 کروڑ روپے وصولی کا دعویٰ کیا لیکن ملزم نے اماراتی کمپنی سے بطور تنخواہ رقم وصولی کا کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیا،خواجہ آصف نے طارق میر اینڈ کمپنی کے نام سے بے نامی کمپنی بنا رکھی ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق خواجہ آصف کے ملازم طارق میر کے نام پر بنائی گئی کمپنی میں 40 کروڑ روپے کی رقم بھی جمع کرائی گئی ہے، ملزم نے بے نامی کمپنی میں جمع کرائی گئی رقم کے دستاویزی ذرائع بھی نہیں بتائے جبکہ خواجہ آصف نے اثاثوں کی نوعیت، ذرائع اور منتقلی کو دوران تفتیش ظاہر نہیں کیا،چیئرمین نیب کی منظوری کے بعد خواجہ آصف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے،ملزم کیخلاف آمدن سے زایداثاثوں اور منی لانڈرنگ الزامات کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ خواجہ آصف کو تفتیش کی غرض سے 15روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دیا جائے۔خواجہ آصف کے وکیل نے بتایا کہ ا ن کے موکل نیب کے طلب کرنے پر پیش ہوئے اور تمام دستاویزات فراہم کر دیے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اعداد و شمار کا معاملہ لگتا ہے۔ عدالتی اجازت پر خواجہ آصف نے بتایا کہ پہلے راولپنڈی میں کیس بنایا اور کچھ نہ ملنے پر اب لاہور میں چھان بین شروع کر دی۔ فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے خواجہ آصف کو13 جنوری تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں دے دیا۔عدالت نے خواجہ آصف سے ان کے گھر والوں کی ملاقات اور گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت بھی دے دی۔ عدالت نے جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر خواجہ آصف کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا۔

