کراچی/اسلام آباد/کراک( اسٹاف رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک/خبر ایجنسیاں )عدالت عظمیٰ نے کرک میں مندر نذر آتش کرنے کا از خود نوٹس لے لیا‘ چیف سیکرٹری اور آئی جی خیبر پختونخوا طلب، مندر میںتوڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں 31افراد گرفتار جے یو آئی کے مقامی رہنما سمیت 350افراد کے خلاف
مقدمہ درج‘مزید افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے‘ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ علاقے کی بااثر شخصیات سے رابطے میں ہیں ‘ مسئلہ حل کیا جارہا ہے‘ اقلتیوں اور ان کی عبادت گاہوں کاتحفظ آئینی ذمے داری ہے۔ تفصیلات کے مطابق، چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر نذرآتش کرنے کا ازخود نوٹس لے لیا‘ چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کے کو نوٹس جاری کردیے۔ عدالت عظمیٰ کراچی رجسٹری میں ہندو کمیونٹی کے چیف پیٹرن اور رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے ملاقات کی اور چیف جسٹس کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مندر پر حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ازخود نوٹس لے لیا۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مندر کا دورہ کرکے 4 جنوری تک رپورٹ جمع کرائیں۔ انہوں نے ازخود نوٹس کیس کو5 جنوری کو سماعت مقرر کرنے کا حکم بھی دیدیا۔ عدالت عظمیٰ کے باہر پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار نے کہا کمجھے حکومت سے زیادہ عدلیہ پر اعتماد ہے‘ کمیشن بنادیا گیا ہے کہ جس کی سربراہی شعیب سڈل کررہے ہیں۔ اے ٹی اے کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے‘ رمیش کمار نے کہا کہ گھوٹکی میں مندر توڑا لیکن ان کے ملزموں کو چھوڑ دیا گیا اب ایسا نہیں ہوگا۔ امید ہے مندر بہتر طریقے سے بحال ہوگا۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع کرک میں مندر میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں 31 افراد کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ مقدمے میں جے یو آئی کے ضلعی امیر سمیت 350 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے گاؤں ٹیری میں ہندؤں کے مندر کی توسیع کے خلاف مشتعل مظاہرین نے گزشتہ روز مندر کی عمارت کو توڑ پھوڑ کر آگ لگا دی تھی۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مندر میں توسیع کسی صورت قبول نہیں، یہ ہندؤں کی سمادھی نہیں بلکہ کسی مسلمان کی قبر ہے۔اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو ہندؤں کے پنڈت تنویر چند نے بتایا کہ ٹیری کے مقام پر 1919 میں دیویا جیان دیواس جو کہ یہاں آکر فوت ہو گئے تھے۔دوسری طرف ڈی پی او کرک عرفان اللہ کا کہنا ہے جے یو آئی کے ضلعی امیر مولانا میر زاقیم سمیت 350 سے زائد افراد کے خلاف مندر جلانے اور توڑ پھوڑ کا مقدمہ درج کر کے 31 افراد کو گرفتار بھی کیا جا چکا ہے‘جبکہ مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔جے یو آئی کرک کے ضلعی امیر مولانا زاقیم نے بتایا کہ واقعے کے متعلق جیسے ہی علم ہوا میں وہاں فوری طور پر پہنچا اور لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کی مگر اس سے پہلے مشتعل لوگ مندر یا مکان کو نقصان پہنچا چکے تھے۔وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔اپنے ایک بیان میں وزیر مذہبی امور کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان بھی غیر مسلم آبادی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور، وزیر زادہ، روی کمار، ایم پی اے، سابقہ ایم این اے مولانا شاہ عبد العزیز کے ذریعے معاملات کو حل کیا جا رہا ہے۔نورالحق قادری کے مطابق کرک کی ہندو کمیٹی کی جانب سے مندر سے ملحقہ جگہ خرید کر توسیع کرنے پر مقامی آبادی مشتعل ہوئی تھی۔تاہم انہوں نے بتایا کہ مذکورہ واقعے میں ملوث افراد کو کرک انتظامیہ گرفتار کررہی ہے، ساتھ ہی انہوں نے مقامی ہندوؤں سے بھی پرامن رہنے کی اپیل کی۔خیال رہے کہ شری پرم منہس جی مہاراج کی سمادھی کے معاملے پر دہائیوں قبل تنازع شروع ہوا تھا، 1997ء میں اس جگہ کو مسمار کردیا گیا تھا تاہم 2015ء میں عدالت عظمیٰ نے خیبرپختونخوا حکومت کو ہندو سمادھی کو بحال کرنے اور دوبارہ تعمیر کا حکم دیا تھا۔
