

تہران (انٹرنیشنل ڈیسک) ایران میں نئے سال کے ساتھ ہی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کی پہلی برسی کی تقریبات کا آغاز ہوگیا۔ اس موقع پر ایرانی چیف جسٹس نے قاسم سلیمانی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے قاتل زمین پر کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ابراہیم رئیسی نے کہا کہ قاسم سلیمانی پر حملے کا حکم دینے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تک انصاف سے مبرا نہیں ہو سکتے۔ تہران یونیورسٹی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی چیف جسٹس نے کہا کہ قاتلوں کو سنگین بدلے کا سامنا کرنا ہوگا۔ اب تک جو کچھ بھی منظر عام پر آیا ہے، وہ محض جھلکیاں تھیں، تاہم کوئی بھی یہ نہ سمجھے کہ امریکی صدر کے طور پر یہ قتل کرنے یا اس قتل کا حکم دینے والے کو عدالتی استثنا حاصل ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ دریں اثنا ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے سبکدوش ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوسرے صدام حسین ثابت ہوئے ہیں۔ روحانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ صدام حسین نے 8 سال جنگ مسلط رکھی، جس کا خاتمہ ان کے اقتدار سے ہٹنے پر ہوا، اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھی ہم پر 3 سال جنگ مسلط کی اور وہ بھی آیندہ 3 ہفتوں میں اقتدار سے نکال باہر ہوجائیں گے۔ جب کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے لیے فضا سازگار بنانے کی کوشش کی ہے۔
