

لندن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی یونین سے برطانیہ کے حتمی انخلا کے بعد ڈوور کی بندرگاہ کی رونق ماند پڑگئی۔ خبررساں اداروں کے مطابق سال نو شروع ہوتے ہی بریگزٹ پر مہر لگنے کے بعد فرانس کی بندرگاہ کیلے سے ڈوور تک آنے والا ٹریفک انتہائی کم رہا۔ بریگزٹ سے قبل یورپ اور برطانیہ میں 50کروڑ افراد کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت تھی، تاہم برطانوی انخلا کے معاہدے کے بعد اب انہیں اجازت درکار ہوگی۔ برطانوی پولیس نے بندرگاہ پر رکاوٹیں لگادی ہیں، جس کے بعد اب آنے جانے والوں کی جانچ کی جائے گی۔ سال کی ابتدا میں رودبادِ انگلستان سے گزرنے والا سمندری ٹریفک انتہائی کم رہا اور فرانس کی کیلے بندرگاہ سے آنے والوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ برطانوی حکام کو امید ہے کہ چند روز میں وہاں سرگرمیاں بحال ہوجائیں گی۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد ٹرک ڈرائیوروں اور دیگر افراد کا کورونا ٹیسٹ بھی لازمی کردیا جائے گی۔ دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ نصف صدی تک برطانیہ یورپی یونین کا حصہ رہا ہے اور اب انخلا کے بعد نیا سال لندن حکومت کے لیے بڑے بحران بھی لاسکتا ہے۔ بریگزٹ کے لیے ساڑھے 4سال تک کوششیں کی گئیں اور معاہدے کی مہلت ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے ہنگامی طور پر 1200صفحات پر مشتمل معاہدے کو منظور کیا گیا۔ وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ یورپی مارکیٹ سے اخراج ایک حیرت انگیز لمحے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک سب کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ کرے گا۔
