

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ نے اسرائیل میں متعین امریکا کے انتہا پسند اور صہیونیت نواز سفیر ڈیوڈ فریڈ مین کے اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، جس میں انہوںنے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں تیزی لائے۔ حماس کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈاکٹر باسم نعیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل میں امریکی سفیر کا بیان فلسطینی قوم کے ساتھ امریکی انتظامیہ کی کھلی دشمنی اوراسرائیل کی بے جا حمایت کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سفیر کا بیان بین الاقوامی قوانین کی توہین اور اشتعال انگیزی ہے۔ باسم نعیم نے کہا ہے کہ ایک بڑے ملک کے سفیر کے ناتے ڈیوڈ فریڈ مین کا فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری میں توسیع اور یہود کی تعداد بڑھانے پر زور دینا بین الاقوامی قوانین کی توہین اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ حماس رہنما کا کہنا تھا کہ امریکی سفیرفلسطین میں یہودی آباد کاری کی حمایت کرکے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کرنے مذموم کوشش کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیوں میں تیزی لانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے غرب اردن میں ایک یہودی خاتون کے قتل کے بعد اس کے خاندان سے ملاقات کی ہے۔ اس قتل کے بعد اسرائیل کو فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی لانا چاہیے۔ اسرائیلی خاتون آباد کار کو 20 دسمبر کوغرب اردن کے شمالی شہر جنین کے مغرب میں تل مناشیہ یہودی کالونی سے پُراسرار طور پراغوا کے بعد قتل کردیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون کو فلسطینی مزاحمت کاروں نے قتل کیا ہے اور فوج نے اس کے قاتل کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
