اسلام آباد‘نئی دہلی(صباح نیوز)سال نو کے پہلے روز جمعہ کو پاکستان اور بھارت کے مابین جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ ہوگیا۔ایک دوسرے کی جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملے روکنے کے معاہدے کی دفعہ 2 کے تحت دونوں ممالک کے مابین 1992 ء سے ہر سال یکم جنوری کو جوہری تنصیبات کی فہرست کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔مذکورہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 ء کو طے پایا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے دفتر خارجہ نے پاکستان کی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست جمعہ کو باضابطہ طور پر بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندوں کے حوالے کی۔دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندوں کو اپنے جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست فراہم کی۔اس کے علاوہ دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی ہوا اور پاکستان نے بھارتی ہائی کمیشن کو ملک میں قید 319 بھارتی قیدیوں کی فہرست فراہم کی، جس کے مطابق پاکستان میں بھارت کے49شہری اور270ماہی گیر قیدہیں ۔ دوسری جانب بھارتی حکومت نے بھی بھارت میں قید340پاکستانیوں کی فہرست پاکستان کے حوالے کی،جس کے مطابق بھارت میں پاکستان کے 263 عام شہری اور 77 ماہی گیر قید ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق تبادلے کا یہ اقدام 21 مئی 2008 ء کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت کیا گیا۔مذکورہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک اپنی اپنی جیلوں میں قید ایک دوسرے کے شہریوں کی فہرستوں کا سال میں2مرتبہ تبادلہ کرنے کے پابند ہیں ۔ قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو کیا جاتا ہے۔2020ء کے پہلے روز حکومت پاکستان کی بھارتی ہائی کمیشن کو فراہم کردہ فہرست کے مطابق ملک کی مختلف جیلوں میں قید 2 سو 82 بھارتی قیدیوں میں 55 عام شہری اور 2 سو 27 ماہی گیر شامل تھے۔
