بیجنگ (انٹرنیشنل ڈیسک) چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ چین اور امریکا کے تعلقات اس وقت ایک نئے دو راہے پر ہیں۔ انہوں نے یہ بات ہفتے کے روز ملکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت گزشتہ برسوں کے مشکل تعلقات کے بعد اب دونوں ممالک کے مابین بہتر تعلقات اور مذاکرات کے نئے دور کی امید پیدا ہوئی ہے ۔ صدر ٹرمپ کے دور اقتدار کے دوران دنیا کی ان دوونوں بڑی معیشتوں کے تعلقات انتہائی کشیدہ رہے تھے ۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حال ہی میںچینی فوج سے تعلقات کا الزام عائد کرتے ہوئے کئی چینی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین تجارت، انسانی حقوق اور کووڈ 19جیسے امور پر شدید اختلافات دیکھے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب سلامتی کے حوالے سے بڑھتے خدشات کے باعث نیویارک اسٹاک ایکسچینج (این وائی ایس ای)نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ چین کی 3 کمپنیوں کو ایک صدارتی حکم نامے کی تعمیل میں اپنے پاس اندراج شدہ کمپنیوں کی فہرست سے نکالنے کی تیاری کررہی ہے۔ ان کمپنیوں پر چینی فوج سے وابستہ ہونے کا الزام لگا کر امریکی حکومت نے پابندیاں عائد کی ہیں۔ این وائی ایس ای کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 3 کمپنیوں چائنا موبائل ، چائنا ٹیلی کام اور چائنہ یونی کوم ہانگ کانگ کو 7 جنوری سے 11 جنوری کے درمیان پابندی والی فہرست میں شامل کیا جائے گا اور انہیں نکالنے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔ ہانگ کانگ میں الگ الگ لسٹنگ رکھنے والی یہ کمپنیاں بغیر کسی مقصد کے امریکا میں چین کے لیے ٹیکس حاصل کرتی ہیں۔ اس طرح چین میں سرمایہ کاری پیدا کرنے کے لیے یہ کمپنیاں امریکی سرزمین کا استعمال کر رہی ہیں، جو ایک مکروہ کاروباری عمل ہے۔
