

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست جارجیا کے انتخابی حکام کو فون کر کے انہیں انتخابات کا نتیجہ بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جارجیا کے الیکشن افسر اور ری پبلکن سیکرٹری آف اسٹیٹ بریڈ ریفنسپرگر کو فون کر کے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے لیے 11 ہزار 780 ووٹوں کا انتظام کریں، تاکہ ہم ریاست میں جیت سکیں۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے صدر ٹرمپ اور الیکشن افسر کے درمیان ہونے والی گفتگو کی آڈیو حاصل کر کے تفصیلات شائع کردیں۔ ایک گھنٹہ طویل گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے بریڈ ریفنسپرگر پر حملے کیے اور انہوں نے ریاست میں 3 مختلف مقامات پر ووٹوں کی گنتی کے درست ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ جارجیا کے الیکشن حکام سے ہونے والی گفتگو سے متعلق صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں وضاحت کی کہ انہوں نے بریڈ ریفنسپرگر سے فلٹن کاؤنٹی میں ہونے والے ووٹنگ فراڈ پر بات کی تھی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بریڈ ان کے سوالات کے جواب نہیں دے سکے اور ان کے پاس مردہ لوگوں کے ووٹ ڈالنے، غلط بیلٹنگ اور خفیہ بیلٹ کی جعل سازی سے متعلق کوئی جواب نہیں تھا۔ اس کے جواب میں بریڈ ریفنسپرگر نے ٹوئٹ میں کہا کہ قابل احترام صدر ٹرمپ آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں۔ جلد حقیقت سامنے آ جائے گی۔ دوسری جانب امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے کہا ہے کہ وہ نو منتخب صدر جو بائیڈن کے خلاف سینیٹ اجلاس میں 12 ری پبلکن ارکان کے ساتھ شریک ہوں گے اور یہ سب نئے صدر کے خلاف ووٹ دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مخالفت علامتی ہے، اس سے جو بائیڈن کی کامیابی کو روکا نہیں جاسکے گا۔
