ریاض ( مانیٹرنگ ڈیسک ) قطر اور سعودی عرب کے تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان فضائی، زمینی اور سمندری حدود کھولنے کا اعلان کردیا گیا۔منگل کو قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی بھیمجلس تعاون برائے خلیجی ممالک کی سربراہ کانفرنس(جی سی سی) میں شرکت کے لیے سعوی عرب کے شہرالعلاپہنچے جہاں ولی عہد محمد بن سلمان نے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ قطر سمیت خلیجی ممالک کے رہنماؤں نے خطے میں اتحاد اور استحکام قائم کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کیے جس کا مقصد قطر کے خلاف لگائی جانے والی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔جی سی سی کانفرنس میں دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم ، بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد آل خلیفہ، عمان کے نائب وزیر اعظم فہد بن محمود آل سعید اور کویت کے امیر الشیخ نواف الاحمد الجابر الصباح نے اپنے اپنے وفد کی قیادت کی۔تقریب میں ٹرمپ کے سینئرمشیر نے بھی شرکت کی۔ علاوہ اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ ہمیں اپنے خطے میں اپنے اتحاد کو فروغ دینے اور چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ایرانی حکومت کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام اور تخریب کاری اور تباہی کے منصوبوں سے لاحق خطرات بڑے چیلنجز ہیں۔قطری دارالحکومت دوحا سے سعودی عرب کے سرحدی شہر ابو سمرہٰ کو جانے والی سَلویٰ شاہراہ پر دونوں اطراف کے لوگوں نے اپنی اپنی گاڑیوں کے ہارن بجا کراور جھنڈے لہرا لہرا کر اس ڈیل کا خیر مقدم کیا۔اسی طرح سعودی اور قطری شہریوں نے ایک دوسرے کو گلے ملتے ہوئے بحرانی دور کے خاتمے پر مسرت کا اظہار کیا۔بی بی سی کے مطابق قطر پر سے پابندیاں ہٹانے میں کئی مہینوں کے صبر، بہت محنت سے کی گئی سفارتکاری شامل رہی جس میں زیادہ کردار کویت کا رہا مگر ٹرمپ کی صدارت کی مدت کے خاتمے کا وقت قریب آتے ہی وائٹ ہاؤس کا بھی کردار بڑھا۔ وال سٹریٹ جرنل سے گفتگو میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ یہ اب تک ہمارے لیے سب سے بڑی پیش رفت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے محبت کرنے لگیں گے اور بہترین دوست بن جائیں گے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہوں گے۔یاد رہے کہ 2017ء میں سعودی عرب سمیت 6 عرب ممالک نے قطر پر دہشت گردی میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتے ہوئے سفارتی و تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔اس پابندی نے قطر کو سعودی عرب کے نظریاتی دشمنوں ترکی اور ایران کے قریب کر دیا۔ادھر پاکستان نے سعودی عرب اور قطر کے مابین تعلقات کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خلیج تعاون کونسل اور اس کے رکن ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔منگل کو ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان امیر کویت کی جانب سے خلیج تعاون کونسل ممالک کے مابین اختلافات ختم کروانے کے لیے ادا کردہ مثبت کردار کوسراہتا ہے ،ان کی مسلسل اور مخلصانہ کاوشوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،ہم امید کرتے ہیں کہ جی سی سی کے اجلاس سے حوصلہ افزا پیش رفت ہوگی۔ترجمان نے مزید کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان اعتماد مزید بڑھے گا۔
