

مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) اسرائیل فوج نے چاقو حملے کے الزام میں فلسطینی شہری پر گولیاں برسادیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق واقعہ بیت لحم کے جنوب میں آبادکاروں کی بستی غوش عتصیون کے قریب پیش آیا۔ صہیونی اہل کاروں نے چاقو حملے کا الزام عائد کرکے بیت عمار قصبے سے تعلق رکھنے والے عاہد عبدالرحمن اخلیل نامی نوجوان کو شہید کردیا۔ عبرانی چینل 7 نے دعویٰ کیا ہے کہ فلسطینی شہری چاقو لے کر فوجیوں اور آباد کاروں کے پاس گیا اور حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور کے ساتھ اس کا ساتھی بھی تھا،جسے تعاقب کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔ قابض فوج کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ گش ایٹیزون جنکشن کے قریب چاقو حملے کے بعد سڑک کو بند کردیا گیا۔ دوسری جانب صہیونی حکام نے بیت لحم میں فلسطینیوں کی اراضی پر قبضے کی منظوری دے دی ۔ فلسطینی سماجی کارکن اور انسداد آباد کاری مرکز کے ڈائریکٹر حسن بریجیہ نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے بیت لحم میں الشفا کے مقام پر الخضر قصبے کی وادی الہندی، قسیمہ ام الطلع، وعر ابومہر ، العقبان اور مرو پرقبضے کی منظوری دے دی ہے ۔ بریجیہ کا کہنا تھا کہ بیت لحم میں فلسطینیوں کی اراضی پرقبضے کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ صہیونی ریاست یہودی آباد کاروں کے سامنے فلسطینیوں کے جان ومال کی ذرہ برابر پروا نہیں کرتی۔ ادھر اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین میں یعبد کے مقام پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 2بھائیوں کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ یعبد بلدیہ کے چیئرمین امجد عطاطرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ابو شملہ اور اس کے بھائی یزن کو ان کے گھروں میں گھس کر حراست میں لیا ۔ گرفتاری کے وقت قابض فوج نے گھروں میں گھس کر توڑپھوڑ اور لوٹ مار بھی کی۔ فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنین میں یہودی آباد کاروںکی طرف سے فلسطینی شہریوں پرحملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اس کے ساتھ قابض فوج بھی روزانہ کی بنیاد پر فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر انہیں زدو کوب کر تی ہے۔
