کراچی میں سانحہ مچھ کے متاثرین کے مطالبات کی حمایت میں دھرنوں سے شہر کا ٹریفک نظام شدید متاثر ہوگیا۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق نمائش چورنگی، یونیورسٹی روڈ، ابوالحسن اصفہانی روڈ، نارتھ کراچی پاور ہاؤس چورنگی اور شارع فیصل سمیت شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے سے ٹریفک جام ہوگیا۔
ٹریفک پولیس کے مطابق کراچی کی اہم شاہراوں پر دھرنوں کے باعث ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی۔ شارع فیصل پر دھرنے سے دونوں ٹریک ٹریفک کے لیے معطل ہوگئے۔
Protest Updates:-
– Shahra e Faisal from Drigh Road till Natha Khan bridge is blocked. Take Shah Faisal colony from Star Gate.
– Mausamiyat, University Road is blocked from Safari Park.#Karachi #KhiAlerts Via @wbmemon @umerdar90 @aadilmfarooqui @ahsan707 @RohailRamzanAli pic.twitter.com/yRMVTA4P3r
— Karachi Traffic Updates (@KhiTraffic) January 6, 2021
دوسری جانب ایئرپورٹ جانے والے مسافر بھی دھرنوں کے باعث ٹریفک میں پھنس گئے۔
قومی ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام مسافر فلائٹ کے وقت سے پہلے ایئرپورٹ پہنچیں۔ وقت سے پہلے پہنچنے پر ہی پروازیں بروقت روانہ ہو سکیں گی۔
ترجمان کے مطابق مسافر معلومات کے لیے فلائٹ انکوائری یا پی آئی اے کال سینٹر سے رابطہ کریں۔
– Lyari Expressway is blocked from Sohrab Goth side.
– A picture coming from Stargate, Shahra e Faisal.
– لیاری ایکسپریس وے کو سہراب گوٹھ کی طرف سے بلاک کردیا گیا ہے۔
– اسٹار گیٹ ، شاہرا فیصل۔#Karachi #کراچی #KhiAlerts Via @sikandarusmani8 @hassam_ul_haque @RohailRamzanAli pic.twitter.com/1UZj90m9Ke
— Karachi Traffic Updates (@KhiTraffic) January 6, 2021
واقعے کا پسِ منظر
ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل مچھ کے علاقے گشتری میں نامعلوم افراد کوئلے کی کان میں کام کرنے والے مزدوروں کو اغوا کر کے پہلے پہاڑوں پر لے گئے اور پھر انہیں فائرنگ کر کے قتل کردیا تھا۔ واقعے میں 11 مزدور جاں بحق ہوئے۔
ڈپٹی کمشنر بولان مراد کاسی کے مطابق نے اس بات کی تصدیق کی کہ ہلاک ہونے والے کان کنوں کے تیز دھار آلے سے گلے بھی کاٹے گئے تھے۔
مقامی حکام کے مطابق قتل کیے جانے والے مزدوروں کا تعلق شیعہ ہزارہ کمیونٹی سے تھا۔ مسلح افراد واردات کے بعد فرار ہوگئے۔
نیم فوجی لیوی فورس کے اہلکار معظم علی جتوئی نے امریکی خبررساں ادارے کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلح افراد ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی شناخت کرکے انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے جبکہ بقیہ لوگوں کو انہوں نے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

