کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت ادارہ نور حق میں ذمے داران کا ایک اجلاس ہوا جس میں کراچی میں درست مردم شماری ، با اختیار شہری حکومت و فوری بلدیاتی انتخابات اور شہر قائد کے گمبھیر مسائل کے حوالے سے جماعت اسلامی کے تحت جاری ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں طے کیا گیا کہ گیس بحران اورلودشیڈنگ کے خلاف کل بروزجمعرات 7جنوری کو 12بجے دن سوئی سدرن گیس کمپنی کے ہیڈ آفس نزد سوک سینٹر پر جے آئی یوتھ کے زیر اہتمام بھر پور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا اور حقوق کراچی تحریک کے سلسلے میں جمعہ 8جنوری کو ضلع جنوبی اور ہفتہ 9جنوری کو ضلع گلبرگ (وسطی) میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے ۔اجلاس میں عزم کیا گیا کہ مسائل کے حل اور کراچی کے جائز آئینی و قانونی حقوق کی فراہمی تک تحریک جاری رہے گی اور جدو جہد کو مزید تیز کیا جائے گا ۔ اجلاس میں شہر میں جاری گیس کی لوڈشیڈنگ ، سی این جی سیکٹر اور صنعتوں کو گیس کی عدم فراہمی کے باعث پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور گھریلو و صنعتی صارفین کی بڑھتی ہوئی مشکلات و پریشانیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی نا اہلی و ناقص کارکردگی کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کی جائے اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمران طبقے کی مجرمانہ غفلت و لاپروائی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مسلسل نا اہلی اور عوامی مسائل سے لاتعلقی نے کراچی کے 3کروڑ عوام کو بے شمار مسائل و مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی آپس کی چپقلش کے باعث کراچی کے عوام کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ مردم شماری میں بھی کراچی کے عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکا کیا گیا اور شہر قائد کی آدھی آبادی کو غائب کر دیا گیا ۔ ایک طرف نہ صرف میرٹ کو نظر انداز کر کے من پسند لوگوں کو نوکریاں دی جاتی ہیں بلکہ دوسری طرف کوٹا سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کر کے یہاں کے نوجوانوں پر سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں اور اس نا انصافی و حق تلفی میں پی ٹی آئی ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی برابر کی شریک ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گیس کے بحران اور لوڈشیڈنگ نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور قومی خزانے کو 70فیصد تک ریونیو دینے والے شہر کے باسیوں کو شدید اذیت اور کرب کا شکار کر دیا ہے ۔ ایک طرف صنعتوں کا پہیہ جام ہو رہا ہے اور تاجر و صنعت کار طبقہ بھی سخت پریشان ہے ، دوسری طرف گیس کی لوڈشیٖڈنگ کے خلاف کراچی کے عوام سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور جگہ جگہ مظاہرے کیے جا رہے ہیں لیکن حکومت پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ۔
