اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر جلائے جانے واقعہ پر مندر کی بحالی کیلیے ذمہ داروں سے اخراجات وصول کرنے کا حکم دے دیا۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر جلائے جانے کیس سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت کی، آئی جی اور چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سپریم کورٹ میں پیش ہوئے.
تفصیلات کے مطابق جسٹس اعجازالاحسن نے آئی جی سے استفسار کیا کہ پولیس چوکی قریب ہونے کے باوجود واقعہ کیسے ہوگیا؟ ایجنسیاں کیا کر رہی تھیں جب اتنے لوگ جمع ہوئے؟ سوشل میڈیا پر تمام تصاویر دنیا بھر میں پھیل گئیں.
آئی جی خیبرپختونخوا نے جواب دیا کہ ایس پی اور ڈی ایس پی سمیت ڈیوٹی پرمامور 92 اہلکاروں کو معطل کیا گیا، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو صرف معطل کرنا کافی نہیں ،واقعے سے ملک کی بدنامی ہوئی.
چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جن لوگوں نے مندر کو جلایا ان سے پیسے ریکور کریں اور مندر کی تعمیر کیلئے مولوی شریف سے پیسے ریکور کیے جائیں، جب تک ان لوگوں کی جیب سے پیسے نہیں نکلیں گے یہ دوبارہ یہی کام کریں گے.
واضح رہے کہ رواں ماہ یکم جنوری کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کرک میں مندر نذرآتش کرنے کا ازخود نوٹس لیا تھا اور چیف سیکرٹری اور آئی جی کے پی کے کو نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ مندر کا دورہ کرکے 4 جنوری تک رپورٹ جمع کرائیں۔

