English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلوچستان بھر میں تیسری پوزیشن لینے والے مشتاق حسین بھی مچھ میں ذبح کردیا گیا

القمر

دشت گردوں نے لہو ٹپکا کر ایک علم کا چراغ بھی بجھا دیا
مچھ میں دہشتگروں نے طالب علم مشتاق حسین کو بھی ذبح کرڈالا
مستقبل کے روشن خواب دیکھنے والا ذہین اور انتہائی محنتی مشتاق بلوچستان میٹرک
امتحانات میں صوبے بھر میں تیسری پوزیشن اپنے نام کرچکا تھا
مشتاق حسین نے میٹرک کے امتحانات میں 1053 حاصل کیے تھے
مشتاق نے نہ صرف تعلیم جاری رکھی بلکہ اس نے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے
اور گھروالوں کو مالی اسپورٹ دینے کے لیے کوئلے کی کانوں میں مزدوری جاری رکھی۔
کوئلے کی سیاہ کانوں میں کام کرنے والا یہ ہیرا اپنے روشن مستقبل کے لیے پرامید تھا
مشتاق کے خاندان والے بھی سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ رہے تھے
طالب علم کی ماں اب روشن دنوں کے لیے پرامید تھی۔

ماں کو یقین تھا کہ اس کا جگر گوشہ اب کانوں میں مزدوری کرنے کی جگ کہیں افسر لگ جائے گا اور گھر کی غریبی دور ہوجائے گی
اس بدقسمت ماں کو کہاں خبر تھی کہ سالوں کی محنت اور امیدوں سے جواں کیا گیا یہ درخت پھل آنے سے پہلے ہی کاٹ دیا جائے گا
مشتاق حسین بھی ان گیارہ کان کنوں میں سے ایک کان کن تھا جس کو اس فرقے اور قبیلے کی بنیاد پر شناخت کرکے ذبح کردیا گیا
مشتاق حسین کو مچھ میں دہشت گردوں نے بے دردی سے قتل کیا

ان ظالموں نے مشتاق کی سانسیں روک کر اس کے والدین کو جیتے جی مار دیا
ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایسے کئی مشتاق ریاست سے اپنے خون کا حساب مانگ رہے ہیں
آج کوئٹہ کی سڑک پر جاری ہزارہ برادری کے دھرنے میں مشتاق حسین کا خون تو نظر آرہا ہے
لیکن قاتل کے خون آلودہ ہاتھ آج بھی قانون کی پکڑ سے باہر ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے