

واشنگٹن/لندن/برلن/تہران /اسلام آباد (خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی پارلیمنٹ پرحملے میں 4 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مرنے والوں ائرفورس کی خاتون اہلکار جب کہ زخمیوں میں 14پولیس والے بھی شامل ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے ٹرمپ نواز52 بلوائیوں کو حراست میںلے لیا ہے۔علاوہ ازیں ہنگامہ آرائی سے بھرپور اجلاس میں ایوان نمائندگان نے مشترکہ طور پر ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن اور ان کی نائب کمالا ہیرس کے صدارتی انتخابات میں جیت کی توثیق کردی ہے،اب جوبائیڈن کے صدر بننے کے حوالے سے تمام آئینی تقاضے پورے ہو گئے ہیں اور وہ 20 جنوری کو امریکا کے 46 ویں صدر کا حلف اٹھائیں گے۔کانگریس کی نائب صدر مائیک پنس کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے کیپیٹل ہل کے باہر ہنگامہ آرائی اور دنگا فساد کیا وہ نہیں جیتے، تشدد کبھی بھی نہیں جیتتا، ہمیشہ آزادی کی جیت ہوتی ہے اور یہ ایوان اب بھی عوام ہی کا ہے۔ادھر صدر ٹرمپ نے بالآخرشکست تسلیم کرلی ہے مگر انہوں نے دھاندلی کے اپنے بے بنیاد دعوے ایک مرتبہ پھر دہرائے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگرچہ انتخاب کے نتائج سے پوری طرح سے متفق نہیں ہوں اور حقائق مجھ پر عیاں ہیں، اس کے باوجود 20 جنوری کو منظم منتقلی ہوگی۔انہوںنے مزید کہا کہ امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کی ہماری لڑائی کا یہ صرف آغاز ہے۔ خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شکست تسلیم کرنے کا بیان ایسے وقت پر سامنے آیا جب ان کے حامیوں کے ہجوم نے کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بولا اور تباہی کے بے مثال مناظر دیکھنے کو ملے۔اس دوران کانگریس کے ارکان چھپنے پر مجبور ہوگئے، دفاتر میں توڑپھوڑ کی گئی اور کانگریس کے امور 6گھنٹوں کے لیے رک گئے۔امریکی صدر کے حامیوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے اور اس پر ٹرمپ کے رد عمل کے بعد وائٹ ہاؤس سے استعفوں کی لائن لگ گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی صدر کے نائب قومی سلامتی کے مشیر میٹ پوٹنگر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔اس کے علاوہ امریکی صدر کی اہلیہ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکی ہیں۔کیپیٹل ہل حملے کے بعد وائٹ ہاؤس کی سوشل سیکرٹری نے بھی فوری طور پر اپنا استعفیٰ جمع کرادیا جس کی وائٹ ہاؤس حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے۔امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ وائٹ ہاؤس کی ایک اور پریس عہدیدار سارا میتھیوس نے بھی بدھ کی رات اپنا استعفیٰ جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کیپیٹل ہل واقعے نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے، امریکی قوم کو ایک پر امن انتقال اقتدار کی ضرورت ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر رابٹ او برائن سمیت دیگر اہم قومی سلامتی کے عہدیداران بھی استعفے دینے پر غور کررہے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی جانب سے بھی جلد استعفا دیے جانے کا امکان ہے۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے کیپیٹل ہل پر حملے کو بنانا ری پبلک سے تشبیہ دے دی۔کیپیٹل ہل میں بدامنی کے واقعے کی عالمی سطح پر مذمت اور اس پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس پر دھاوا بولے جانے کے ذمے دار ٹرمپ بھی ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے کہا ہے کہ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کو ’جمہوریت کو پاؤں تلے کچلنے‘ کا عمل بند کر دینا چاہیے۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کانگریس پرحملے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کے خارجہ امور کے نگران اعلیٰ ترین عہدیدار یوزیپ بورَیل نے کہا ہے کہ امریکا ایسے واقعات جیسا تو نہیں ہے۔ آسٹرین چانسلر سباستیان کْرس نے بھی کیپیٹل ہل پر دھاوا بولے جانے پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس بدامنی کی مذمت کی۔ترکی نے امریکی حالات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جب کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پارلیمنٹ حملے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مجرموں کوانصاف کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔دوسری جانب ایرانی صدرحسن روحانی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مغربی جمہوریت کی کمزوریوں کا پول کھل گیا، سائنس اور صنعتی ترقی کے باوجود بدقسمتی سے امریکا مشہوری کے لیے ذرخیز ہے، ایک مشہور و مقبول شخص اقتدارمیں آیا اور4 سالوں میں ملک کو تباہی تک پہنچا گیا۔پاکستان نے نومنتخب امریکی صدر جوبائیڈن کو ووٹوں کی گنتی کے بعد فتح کی تصدیق پر مبارکباد دی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے واقعات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں، امید ہے کہ امریکا میں اقتدار کی منتقلی کا معاملہ جلد حل ہو گا۔
