ماتلی (نمائندہ جسارت) ورلڈ بینک کے 8 ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈ سے اکرم واہ چینل نہر کی ری ماڈلنگ کا سروے مکمل ہونے کے باوجود تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ یہ پروجیکٹ واٹر امپروومنٹ سیکٹر پروگرام (ڈبلیو ایس آئی پی) کے تحت کرایا جانا تھا، ورلڈ بینک نے فنڈ جاری کرنے کے لیے نہر کے کناروں کی حدود سے مکمل تجاوزات ہٹانے کی شرط لاگو کردی ہے۔ 1954ء میں دریائے سندھ سے جامشورو کے مقام پر غلام محمد بیراج المعروف کوٹری بیراج سے نکلنے والی 573 آر ڈی طویل نہر اکرم کینال المعروف لائیڈ چینل نہر کو ماتلی کے قریب 192 آر ڈی تک پختہ تعمیر کیا گیا تھا۔ اس نہر کو 42 ہزار کیوسک پانی لے جانے کی گنجائش کے تحت ڈیزائن کیا گیا تھا مگر یہ 36 ہزار کیوسک پانی لے جا پا رہی تھی اور موجودہ ایام میں بمشکل 27 ہزار کیوسک پانی لے جارہی ہے۔ چینل نہر کو بہتر بنائے رکھنے کے لیے اس کی تعمیر سے لے کر اب تک ہر سال کروڑوں روپے کا فنڈ فراہم کیا جاتا رہا ہے، چند سال قبل نہر کی خستہ حال پچنگ اور ریگولیٹرز و گیٹوں کی تعمیر و مرمت کے لیے 30 کروڑ روپے کے 12 الگ الگ پیکج دیے گئے تھے لیکن پچنگ کی حالت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کثیر فنڈ کس طرح ٹھکانے لگایا گیا ہوگا۔ ورلڈ بینک کے حالیہ فنڈ سے اکرم کینال کی زیرو آر ڈی سے 192 آر ڈی تک نہر کی پرانی پچنگ کو بہتر بنانے اور نہر کے اینڈنگ پوائنٹ 70 موری تک مزید 381 آر ڈی کو پختہ تعمیر کیا جانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے فنڈ کی فراہمی کو تجاوزات کے ہٹائے جانے سے مشروط کردیا گیا ہے۔ ایریا واٹر بورڈ اکرم کینال میں ممبران کی اکثریت سندھ حکومت میں شامل بااثر شخصیات کے قریبی افراد کی ہے لیکن اس کے باوجود اس نہر کے کناروں پر دوبارہ قائم ہوجانے والی تجاوزات کی وجہ سے نہر کی پچنگ کی تعمیر اور گیٹوں سمیت ریگولیٹرز کی تبدیلی کے کام کا رک جانا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ دوسری جانب وسپ کے تحت ری ماڈلنگ کے آغاز سے قبل ملی بھگت کے ذریعے چینل نہر سے مٹی نکال کر اس کے کناروں اور انسپیکشن پاتھ کے اسٹرکچر کو تباہ کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے اور اسے روکنے کے لیے متعلقہ ذمے داران کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لارہے۔
