English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تجارتی جنگ شروع

سعودی عرب نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو اپنے ہیڈ آفسز دبئی سے ریاض منتقل کرنے کے لئے پُرکشش مراعات کی پیشکش کردی،سعودی ولی عہد محمد بن سلمان “پروگرام ہیڈ کوارٹر” کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب کو خطے کا کاروباری مرکز بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لئے ضروری ہے کہ مختلف شعبوں کے غیر ملکی سرمایہ کار یہاں اپنے صدر دفاتر منتقل کریں۔

ایک کمپنی کے ایگزیکٹو کا کہنا تھاکہ سعودی عرب کثیرالقومی کمپنیوں کے ریجنل ہیڈ کوارٹرز ریاض لانا چاہتا ہے تاکہ کمپنی کی سینئر قیادت یہاں کام کرے اور فیصلہ سازی کے تمام امور سعودی عرب میں انجام دیئے جائیں۔

سعودی عرب نے دبئی میں موجود انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنانس اور آئل سروسز کی بڑی کمپنیوں کے ہیڈ کوارٹرز ریاض منتقل کرنے کے لئے 27 جنوری کو ایک سرمایہ کاری کانفرنس طلب کی ہے، اس کانفرنس کا مقصد کثیرالقومی کمپنیوں کو ریاض میں اپنے صدر دفاتر منتقل کرنے کے لئے راضی کرنا ہے۔

سعودی عرب نے کثیرالقومی کمپنیوں کو ریاض میں ہیڈ آفسز کھولنے پر 50 سال کے لئے ٹیکس چھوٹ دینے اور سعودی شہریوں کو نوکری دینے کا کوٹہ ختم کرنے جیسی پُرکشش مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب مستقبل کے کاروباری مرکز کے لئے دارالحکومت ریاض سے 59 کلو میٹر “کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ” بنا رہا ہے جہاں بلند و بالا عمارات کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ان میں سے کئی عمارتیں مکمل ہو چکی ہیں۔

واضح رہے کہ اسی طرح کی ایک کانفرنس 2018 میں بھی ہوئی تھی لیکن اس سال سعودی نژاد صحافی جمال خشوگی کے قتل کے باعث کئی کمپنیوں نے ریاض آنے سے انکار کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے