جیکب آباد/کراچی(نمائندہ جسارت /اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے بزرگ رہنماء، دیرینہ رکن حاجی عبداللہ خان مگسی75برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ مرحوم جماعت اسلامی ضلع جیکب آباد کے نائب امیر اور تحصیل مقام ٹھل کے بھی امیر رہ چکے ہیں۔ مرحوم ایک شفیق انسان، دعوت دین کے داعی اور سراپا تحریک تھے۔ قاضی حسین احمد، لیاقت بلوچ سمیت تمام قائدین کی مہمان نوازی کا ان کے گھرانے کو اعزاز حاصل تھا جبکہ مرحوم پروفیسر عبدالغفور احمد اور مرحوم مولانا جان محمد عباسی سے خصوصی تعلق تھا۔ کندھ کوٹ مارکیٹ کمیٹی کے سیکرٹری کی حیثیت سے انہوں نے نہ صرف اپنے فرائض بحسن وخوبی سرانجام دیئے بلکہ وہ ایک غریب دوست انسان اور کئی بچوں کی سرپرستی کی جو تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ عہدوں پرفائز ہیں۔ ان کی نماز جنازہ بعدنمازعصرگورنمنٹ ہائی اسکول ٹھل کے گراؤنڈ میں مرکزی نائب امیر سابق ایم این اے اسد اللہ بھٹو کی امامت میں ادا کی گئی جس میں صوبائی نائب امیر پروفیسر نظام الدین میمن، نائب قیمین عبدالحفیظ بجارانی، مولانا حزب اللہ جکھرو،مقامی امیر اکبر مہر، امداد اللہ بجارانی، سابق ڈی آئی جی رمضان چنا، ریلوے پریم یونین کے جنرل سیکرٹری خیرمحمد تنیو، امیر ضلع سکھر سلطان احمد لاشاری سمیت مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں، معززین شہر اور قریبی رشتہ داروں جبکہ ضلع جیکب آباد کے امیر حاجی دیدار علی لاشاری ضلع کشمور کے امیر آغا عبدالفتاح پٹھان اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ شریک تھے۔ بعد ازاں مرحوم کو اپنے آبائی گاؤں مگسی لاڑو میں پرد خاک کیا گیا۔ ان کے انتقال پر امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق، قیم امیر العظیم نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈاکٹر معراج الہدیٰ، راشد نسیم ، امیر صوبہ محمد حسین محنتی،نائب امراء ممتازحسین سہتو،حافظ نصراللہ عزیز،عبدالغفارعمر،اظہارالحق، قیم کاشف شیخ،سیکرٹری اطلاعات مجاہدچنا دیگر ذمے داران دلی دکھ کااظہارکرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اورپسماندگان کے لیے صبرجمیل کی دعا کی ہے۔قبل ازیں اسد اللہ بھٹو نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حاجی عبداللہ خان مگسی ایک دیندار فرد اور جراتمند مسلمان تھے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کی پرواہ کئے بغیر ہر دور میں اسلامی انقلاب کیلئے جدوجہد کی۔ دنیا کمانے کا راستہ ترک کر کے اقامت دین کا راستہ اختیار کیا اور آخری دم تک اسی پر قائم رہے۔ مرحوم ایک ملنسار و غریب پرور اور انسان دوست آدمی تھے۔ جن کی نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ اور بڑی تعداد میں شرکت اس کی گواہی ہے۔ صوبائی امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ حاجی عبداللہ مگسی جماعت اسلامی کی قیمتی سرمایہ تھے۔ ان کی دینی و دعوتی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔حاجی عبداللہ مگسی نے پہلی مرتبہ 1968 میں نواب شاہ میں جماعت اسلامی کے اجتماع میں شرکت کی اور پھر آخری دم تک فکری طور جماعت اسلامی سے ہی جڑے رہے۔ٹھل جیکب آبادمیں “فہم القرآن” کے نام سے لائبریری قائم کی۔ ان کی چھوٹی سی لائبریری میں اردو، انگریزی کا محدود جب کہ سندھی زبان میں کتب کا کثیر ذخیرہ موجود ہے۔

