English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مسلمانوں کو تعلیم سے دور رکھنا بھارت کی سرکاری پالیسی

القمر

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا ہے کہ بھارت میں جس طرح مذہبی اور نظریاتی جنگ شروع ہوئی ہے، اس کا مقابلہ کسی ہتھیار یا ٹیکنالوجی سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس جنگ میں کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو اعلیٰ تعلیم سے مزین کریں اور علم و شعور کے ہتھیار سے مخالفین کو شکست دیں۔ مولانا ارشد مدنی نے 2021-22ء کے لیے تعلیمی وظائف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اس ادنیٰ سی کوشش سے بہت سے ایسے ذہین اور محنتی بچوں کا مستقبل سنور سکتا ہے، جو مالی پریشانیوں کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے میں سخت دشواریوں کا سامنا کررہے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ آزادی کے بعد آنے والی تمام سرکاروں نے ایک طے شدہ پالیسی کے تحت مسلمانوں کو تعلیم کے میدان سے باہر کردیا۔ سچرکمیٹی کی رپورٹ اس کی شہادت دیتی ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مسلمان تعلیم کے شعبہ میں دلتوں سے بھی پیچھے ہیں۔ مولانا مدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ خود بخود ہوگیا یا مسلمانوں نے جان بوجھ کر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی؟ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا بلکہ اقتدار میں آنے والی تمام سرکاروں نے ہمیں تعلیمی پسماندگی کا شکار بنائے رکھا۔ انہوں نے شاید یہ بات محسوس کرلی تھی کہ اگر مسلمان تعلیم کے میدان میں آگے بڑھے تو اپنی صلاحیتوں اور لیاقت سے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجائیں گے ، چناں چہ تمام طرح کے حیلوں اور رکاوٹوں کے ذریعے مسلمانوں کو تعلیم کے قومی دھارے سے الگ تھلگ کردینے کی کوششیں ہوتی رہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان پیٹ پر پتھرباندھ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ ہمیں ایسے اسکولوں اور کالجوں کی اشد ضرورت ہے جن میں مذہبی شناخت کے ساتھ ہمارے بچے اعلیٰ دنیا وی تعلیم کسی رکاوٹ اور امتیاز کے بغیر حاصل کرسکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے