English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عوام کے جائز حق اور مسائل کے حل کیلیے مردم شماری دوبارہ کرائی جائے ، حافظ نعیم الرحمٰن

حافظ نعیم الرحمن ادارہ نور حق میں ’’حقوق کراچی تحریک‘‘ کے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس کررہے ہیں

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے 3 کروڑ عوام کو ان کا جائز اور قانونی حق دینے اور شہر کے گھمبیر مسائل کے حل کے لیے کراچی میں دو بارہ مردم شماری کرائی جائے ، کوٹہ سسٹم ختم کیا جائے ، کراچی کے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ملازمتوں میں ان کا حق دیا جائے ، ان کو سندھ حکومت اور مقامی
اداروں میں ترجیحی بنیادوں پر ملازمتیں دی جائیں ، کراچی میں با اختیار شہری حکومت کے لیے موجودہ لوکل باڈی ایکٹ ختم کر کے فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا جائے ، کے الیکٹرک کا 15سال کا فارنزک آڈٹ کیا جائے اور قومی اداروں اور عوام کے اربوں روپے واپس کرائے جائیں ، گرین لائین سسٹم کو فی الفور فعال بناتے ہوئے شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لیے کم از کم ایک ہزار بسیں فوری طور چلائی جائیں ، جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک تین کروڑ عوام کے دل کی آواز اور ترجمان ہے ۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے کراچی کے مفادات کے خلاف اتحاد کیا ہوا ہے ، حکمران جماعتیں عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف پوائنٹ اسکور نگ کر رہی ہے ۔ حقوق کراچی تحریک کے اگلے مرحلے میں 15جنوری کو نرسری اسٹاپ شاہراہ فیصل پر دھرنا دیا جائے ، 16جنوری کو فائیو اسٹار چورنگی تا حیدری مارکیٹ فیملی کے ہمراہ احتجاجی مارچ کیا جائے گا ، 17جنوری کو الہ دین پارک اور 23جنوری کو کریم آباد چورنگی پر دھرنا دیا جائے گا ، 22جنوری کو عوامی مسائل کے حل اور حقوق کے لیے یوم احتجاج منایا جائے گا اور شہر بھر میں سینکڑوں مظاہرے ہوں گے جبکہ 28جنوری کو 50مقامات پر دھرنے دیئے جائیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ کے اگلے مرحلے کے لائحہ عمل کے اعلان کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امراء ڈاکٹر اسامہ رضی ، راجہ عارف سلطان ، انجیئر سلیم اظہر ، سیکریٹری کراچی منعم ظفر خان اور سیکریٹری اطلاعات زاہد عسکری بھی موجود تھے ، حافظ نعیم الرحمن نے پاکستان اسٹیل مل ایمپلائز ایکشن کمیٹی کے عاصم بھٹی سمیت 29افراد کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آر کی مذمت کی اور ان کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور تمام ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ٹیکس جائز ے میں بھی کراچی سے 41فیصد ٹیکس وصول کیا گیا جبکہ باقی ٹیکس پورے ملک سے وصول کیا گیا لیکن اس کے باوجود کراچی کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے بجٹ میں سے صرف چند فیصد حصہ دیا جاتا ہے ، وفاقی حکومت کے اعلان کردہ 11سو ارب روپے کے پیکیج میں سے بھی چار ماہ کا عرصہ گزر گیا ، صرف 5فیصد ہی عمل درآمد ہو سکا ہے ۔ پیکیجز کے نام پر کراچی کے عوام کے ساتھ مسلسل دھوکہ کیا جا رہا ہے، حکمران پارٹیوں نے آپس میں گٹھ جوڑ کر ررکھا ہے ، پیپلز پارٹی برسوں سے مسلسل کراچی دشمنی کا مظاہرہ کر رہی ہے ، ایم کیو ایم اقتدار کے مزے تو لیتی ہے لیکن کراچی کے بنیادی اور دیرینہ مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کرتی ، پی ٹی آئی نے بھی ڈھائی سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کراچی کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا بلکہ اس نے اور ایم کیو ایم نے مل کر پہلے کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ کرکے اور پھر جعلی اور متنازعہ مردم شماری کی منظوری دے کر کراچی دشمنی کی انتہا کر دی ۔ نواز لیگ کے دور میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کے ساتھ بڑا فراڈ ہوا اور ہماری آدھی آبادی کو غائب کر دیا گیا ، پی ٹی آئی نے بھی اس مردم شماری کو درست نہیں کیا اور کراچی کے ساتھ مزید ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی راہ ہموار کی ، اس ظلم و زیادتی اور حق تلفی پر ایم کیو ایم نے خاموشی اختیار کی اور وہ ہنوز وفاقی حکومت میں شامل ہے ، پیپلز پارٹی بھی کراچی سے صرف وسائل لینے اور لوٹ مار و کرپشن کرنے کے لیے تو آگے آجاتی ہے لیکن جب تین کروڑ شہریوں کے جائز اور قانونی حق کی بات کی جائے تو عصبیت کا مظاہرہ کرتی ہے ، ستم ظریفی یہ ہے اور حکمران جماعتیں بھی کہتی ہیں کہ اس مردم شماری میں فوج شامل تھی تو پھر کراچی کے عوام فوجی اداروں سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر یں اور درست اعداد و شمار اور اصل حقائق کی روشنی میں اہل کراچی کو ان کا جائز اور قانونی حق دلوائیں ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ مردم شماری میں موجود سقم اور تضادات کو ہم نے بروقت اُجاگر کیا تھا اور احتجاج بھی کیا تھا ۔ عدالتی فیصلہ بھی تھا کہ کراچی میں 5فیصد بلاکس دوبارہ کھولے جائیں گے مگر اس پر عمل نہیں ہوا اور وفاقی کابینہ نے بھی حتمی منظوری دے دی ، سی سی آئی کے اجلاس میں اسے زیر التواء رکھا گیا ، سوال ہے کہ سی سی آئی کے بغیر اس کی حتمی منظوری کیسے دی جا سکتی ہے ۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ کئی بلاکس میں آبادی ، ووٹرز کی تعداد سے کم ظاہر کی گئی ہے اور بعض بلاکس میں صفرگھرانے اور صفر آبادی ہے ، ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ، نادرا کے پاس سارا ریکارڈ اور ڈیٹا موجود ہے لیکن اصل مسئلہ حکمران طبقے کی ذہنیت اور حکمران جماعتوں کی سوچ کا ہے ، یہ کراچی کی آواز کو دبانا چاہتے ہیں ، اسی لیے اس کی نمائندگی کو کم سے کم ظاہر کرتے ہیں ، کراچی کی آواز بلند ہوتی ہے تو پورا ملک گونج اُٹھتا ہے لیکن ایک سازش اور منصوبے کے تحت کراچی کی آواز اور حقیقی نمائندگی کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے ،جب شہر کی آبادی کو ہی درست شمار نہ کیا جائے گا تو پھر قومی اور صوبائی سطح پر وسائل کی درست اور جائز تقسیم کیسے ممکن ہو سکے گی ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تین کروڑ آبادی والے شہر میں ٹرانسپورٹ کا عملاً کوئی نظام نہیں ، ملک کے سب سے بڑے شہر کے لوگ چنگ چی رکشوں اور کوچوں کی چھتوں پر چڑھ کر سفر کرنے پر مجبور ہیں ، صرف ایک گرین لائین منصوبہ تک مکمل ہونے کو نہیں آرہا ، ماضی میں شہر کے اندر کے ٹی سی کی ہزاروں بسیں چلتی تھیں ، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے مل کر پورا ادارہ تباہ کر دیا ، کے ٹی سی جب بند ہوئی اس وقت سندھ میں ایم کیو ایم کا وزیر ٹرانسپورٹ ہو تا تھا ، 1999میں سرکلر ریلوے بند ہو ئی اس وقت بھی ایم کیو ایم عروج پر تھی ۔ ایم کیو ایم ‘ اس کے دھڑے اور اس سے نکلنے والے آج کراچی کے لیے باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن پہلے یہ بتائیں کہ انہوں نے خود اپنے دور میں کراچی کے لیے کیا کیا ؟ نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ کے دور میں شروع کیے گئے منصوبے اور پروجیکٹ کے علاوہ شہر کے اندر کس نے تعمیر و ترقی کے اقدامات کیے ؟ انہوں نے پانی کا منصوبہ K-3مکمل کیا اور پھر K-4شر وع کیا جسے ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور اس وقت کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال نے مل کر تباہ و برباد کیا جو تاحال مکمل نہیں ہو سکا ہے ،کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت کا اضافہ کیا گیا ان میں سے کسی نے آج تک اس کے خلاف کوئی بات نہیںکی۔ ان سب نے مل کر چائنا کٹنگ کی اور مال بنایا ، نوجوانوں کو کھیل کے میدانوں اور عوام کو پارکوں سے محروم کیا ، آج یہ کراچی کے عوام کے ہمدرد بنتے ہیں ،حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ غریب اور مڈل کلاس کے طلبہ و طالبات کے لیے تعلیم کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں ، سرکاری تعلیمی ادارے اور اسکولز بدانتظامی اور حکومتی نا اہلی کے باعث تباہی کے دہانے پر ہیں ، میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ نا انصافی اور زیادتی کی گئی ، طلبہ و طالبات اس کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں ، جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے اور ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کی ترجمانی کی ہے ۔ مسائل کے حل میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا ہے ۔ ہمیں جب بھی موقع ملا عوام کو ہر کز مایوس نہیں کریں گے ، اقتدار اور حکومت میں نہ ہونے کے باوجود ہم نے عوام کی خدمت کی ہے ۔ کورونا کی وباء اور بارش کی تباہ کاریوں میں متاثرین کی بحالی اور امداد کے لیے الخدمت کے رضاکاروں اور جماعت اسلامی کے کارکنوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ کر کام کیا ہے ۔ الخدمت نے طبی سہولیات فراہم کرنے ، کووڈ 19کے سستے ٹیسٹ کر نے اور ضرورت مندوں کو ان کی ضروریات کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی حقوق کراچی تحریک جاری ہے اور ہم عوام کے مسائل کے حل اور شہر قائد کے جائز اور قانونی حق حاصل کرنے تک جدو جہد جاری رکھیں گے ۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے