عالمی وبا کورونا وائرس کے کیسز کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان کے تعلیمی ادارے بتدریج کھولنے سے متعلق شیڈول میں کچھ تبدیلی کی ہے تاہم جامعات اور نویں تا 12ویں جماعتوں کا تعلیمی سلسلہ طے شدہ وقت پر بحال ہوگا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ پہلی سے 8ویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھولے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ 9ویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے گزشتہ فیصلے کے مطابق 18جنوری سے ہی کھول دیے جائیں گے، اسی طرح جامعات بھی یکم فروری سے کھل جائیں گی۔
وفاقی وزیر کی جانب سے اعلان سے قبل شفقت محمود کے نام سے ہیش ٹیگ ‘ShafaqtMahmood’ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہا تھا جو بعدازاں پہلے نمبر پر آگیا۔
خیال رہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش کے حوالے سے اعلانات کے بعد سے وفاقی وزیر تعلیم سے متعلق ہیش ٹیگ ٹوئٹر ٹرینڈ بن جاتا ہے۔
4 جنوری کو جب تعلیمی اداروں سے متعلق اعلان کیا گیا تھا تو طلبہ نے ردعمل کا اظہار میمز کی صورت میں کیا تھا اور اس مرتبہ بھی کچھ ایسا ہی دیکھنے میں آیا۔
خیال رہے کہ فیصلے پر طلبہ کے منفی ردعمل پر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے حیرانی کا اظہار بھی کیا تھا۔
اور اب بھی وفاقی وزیر کے اعلان سے پہلے اور بعد میں طلبہ کی جانب سے شفقت محمود کو آخری اُمید قرار دیا جارہا تھا اور اب ایک بار پھر طلبہ اس فیصلے پر نالاں ہیں۔
جن کی کچھ وجوہات میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد میں گزشتہ دنوں میں ہونے والا اضافہ اور آن لائن تعلیم کے بعد آن کیمپس امتحانات شامل ہیں۔
زی نامی صارف نے لکھا کہ فیصلے سے پہلے اور بعد میں طلبہ کا ردعمل کچھ یوں ہے۔
عفی اعوان نامی صارف نے لکھا کہ اگر ‘بیوفائی’ کا کوئی چہرہ ہوتا۔
جہانزیب نامی صارف نے کہا کہ تمام تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں، والدین اور طلبہ کا ردعمل ایسا ہے۔
عنایہ نامی صارف نے لکھا کہ والدین خوش اور طلبہ اداس ہیں۔
امیر نامی صارف نے لکھا کہ اطمینان رکھیں وہ (شفقت محمود) جلد اپنا فیصلہ تبدیل کریں گے۔
مہکی نامی صارف نے لکھا کہ ‘زندگی تعلیم سے اہم ہے شفقت انکل’۔
بی یا نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ مجھے پتا تھا کہ یہی ہونا ہے۔
ٹیم میکر نامی صارف نے لکھا تھا کہ ‘اگر آن لائن پڑھائی کے بعد آپ فزیکل امتحان لینا چاہتے ہیں تو پب جی کے نوجوانوں کو بھی فوج میں بھرتی کیا جائے’۔
علاوہ ازیں وفاقی وزیر کے اعلان سے قبل ٹوئٹر صارفین کی جانب سے اس اُمید کا اظہار کیا گیا تھا کہ شاید تعلیمی اداروں سے متعلق فیصلہ تبدیل ہوجائے۔
ری پبلک نامی ٹوئٹر ہینڈل نے لکھا کہ شفقت انکل آج آپ کے پاس ہمارا دل جیتنے کا آخری موقع ہے۔
ریاض گوہر نے کہا کہ وزرائے تعلیم اور صحت ورچوئل اجلاس منعقد کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ طلبہ فزیکل کلاسز لیں کیا یہ دوہرا معیار نہیں؟
یکم فروری کو تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ 20 جنوری کو ہوگا

وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت و تعلیم نے یکم فروری کو پہلی سے 8ویں جماعت تک اور اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولنے کا حتمی فیصلہ 20 جنوری کو جائزہ اجلاس میں کرنے پر اتفاق کرلیا۔
تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا کہ ‘وفاقی اور صوبائی وزرائے صحت اور تعلیم نے اجلاس میں شرکت کی اور تفصیلی تبادلہ خیال کے بعد متعدد فیصلے کیے’۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ‘ملک بھر سوائے ونٹر زون کے نویں سے 12ویں جماعت تک تعلیمی ادارے 18 جنوری سے کھلیں گے’۔
بیان کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ‘پری پرائمری، پرائمری، مڈل اور ہائر ایجوکیشن کی کلاسیں یکم فروری 2021 کو شروع ہوں گی’۔
وزرا نے فیصلہ کیا کہ ’20 جنوری کو ایک جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ملک بھر میں کو کھول دیا جائے یا پھر یکم فروری کے بعد کیسز کی اضافی شرح سے متاثرہ ضلعوں یا شہروں کو الگ کرنے کا طرز اپنایا جائے جبکہ ملک کے دیگر حصے کھلے ہوئے ہوں’۔
بیان کے مطابق جائزہ لیا جائے گا کہ ‘اسکولوں کے بند ہوجانے کی صورت میں خیبر پختونخوا کے تجربے کی طرح ہفتے میں ایک دن اسکول کھولے جاسکتے ہیں’۔
وفاقی اور صوبائی وزرا نے فیصلہ کیا کہ ’20 جنوری کو مذکورہ پہلووں کے جائزے کی بنیاد پر یکم فروری سے ادارے کھولنے کے فیصلے کو حتمی شکل دی جائے گی’۔
قبل ازیں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کے باعث بند کیے گئے تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی گئی ہے اور اب پہلی سے 8ویں جماعت تک کے تعلیمی ادارے 25 جنوری کے بجائے یکم فروری سے کھولے جائیں گے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ 9ویں سے 12ویں جماعت کے طلبہ کے لیے تعلیمی ادارے گزشتہ فیصلے کے مطابق 18جنوری سے ہی کھول دیے جائیں گے۔
شفقت محمود نے کہا تھا کہ ایک بات تو واضح ہے کہ تعلیم سے وابستہ تمام لوگوں کو اس بات کا شدید احساس ہے کہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچوں کے سیکھنے کی صلاحیت بہت نیچے چلی جاتی ہے اور پچھلے 8 سے 9 ماہ میں تعلیم کا بہت نقصان ہوا ہے لیکن ساتھ ساتھ ہمیں صحت کا بھی خیال رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں صحت اور تعلیم میں توازن قائم کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کم سے کم رسک ہو اور ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں یہ فیصلے کیے گئے ہیں کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات ہونے ہیں اور صوبائی اور وفاقی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے اس سال بغیر امتحان کے کسی بچے کو پاس نہیں کیا جائے گا جس طرح پچھلے سال کیا گیا تھا، اس لیے ضروری ہے کہ نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ 18 جنوری کو نویں، دسویں، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے لیے تعلیمی ادارے کھل جائیں گے اور ان کی تعلیم کا سلسلہ امتحان کی نسبت سے دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
منبع: ڈان نیوز
