کراچی: گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ افراطِ زر 12.6 سے کم ہوکر 7.9 پر آگیا ہے، جب کہ ترسیلاتِ زر میں 24.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ دسمبر 2019 اور 2020 کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا گیا جس کے مطابق افراطِ زر 12.6 سے کم ہوکر 7.9 پر آگیا ہے اور ایف بی آر ٹیکس 469 سے بڑھ کر 508 ارب تک اضافہ ہوا ہے۔
Figures are comparison of Dec 2019 and Dec 2020.
Inflation decreased from 12.6 to 7.9.
FBR Tax increased from 469 to 508 Bn
Exports increased from $1993 to $2357 million
Remittances at average 2 Bn dollars a month.
Forex increased to 20.254 Bn dollars.— Imran Ismail (@ImranIsmailPTI) January 17, 2021
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ برآمدات 1993 سے بڑھ کر 2357 ملین ڈالر ہوگئیں اور ماہانہ اوسطاً 2 ارب ڈالرز کی ترسیلات ہوئیں، کرنٹ اکاؤنٹ مائنس 319 سے بڑھ کر 447 ملین ہوگیا ہے، ایل ایس ایم 5.4 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔
Current account turned into surplus from minus 319 to plus $447 Mn. LSM up by 5.4%.
Inflation decreased by 8%.
Tax collection up by 5%.
Remittances increased by 24.8%.
Forex Reserves increased by 7.7% to 20.25 Bn $ highest in 3 yrs.
Current Account Deficit down by 193%— Imran Ismail (@ImranIsmailPTI) January 17, 2021
گورنر سندھ نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ افراطِ زر میں 8 فیصد تک کمی ، ٹیکس کی وصولی میں 5 فیصد اضافہ، ترسیلاتِ زر میں 24.8 فیصد کا اضافہ ہوا، جب کہ 3 سال میں فاریکس ذخائر میں 7.7 فیصد اضافے سے 20.25 بلین ڈالرز ہوا، اور کرنٹ اکاؤنٹ میں 193 فیصد کمی ہوئی ہے۔
