ٹنڈوالہٰیار (نمائندہ جسارت) تاجر برادری ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، ہم محب وطن پاکستانی ہیں، موجود حکومت کی جانب سے تاجر پالیسی تاجر دشمن پالیسی ہے، ملک میں کرائم کی شرح میں اصافے سے تاجر برادری کو بہت بڑا نقصان ہے، کورونا کے سبب ہمارے 30 فیصد جھوٹے دکانداروں کے کاروبار بند ہوچکے ہیں۔ ایف بی آر کی جانب سے سندھ بھر میں ہمارے جھوٹے دکانداروں کو منی لانڈرنگ کے نوٹس جاری کر کے ہراساں کیا جارہا ہے جبکہ ہمارے چھوٹے دکانداروں کی 20 لاکھ سے کم کی خرید و فروخت ہے، جس کے سبب صرافہ کے دکاندار ایف بی آر کے ایف اے ٹی میں نہیں آتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل سندھ صرافہ ایسوسی ایشن اینڈ زرگران کے مرکزی صدر حاجی ہارون چاند نے کراچی میں جیولرز اینڈ جیم گروپ کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری خوشحال ہوگی تو پاکستان خوشحال ہوگا، تاجر برادری ملک و ٹیکس ادا کرتی ہے اور ہمارا کوئی بھی جیولرز ٹیکس چور نہیں ہے، ہم حکومت کو ٹیکس ادا کر رہے ہیں، موجود حکومت کی جانب سے چھوٹے دکانداروں کو ایف بی آر کے ذریعے ہراساں کیا جارہا ہے۔ بیس لاکھ تک کی خریدو فروخت کے بعد دکاندار ایف اے ٹی کے دائرے میں آتا ہے، بیس لاکھ سے کم کا دکاندار اس ضمن میں نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوٹس کی وجہ سے سندھ سمیت پورے ملک کے صرافہ کے دکاندار ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ ایک طرف ملک میں کورونا نے کاروبار کو تباہ کردیا ہے تو دوسری طرف مہنگائی نے معیشت کے پہیہ کو جام کردیا ہے۔ تاجر ہی ملک کا پہیہ چلاتے ہیں اور اگر ملک کا تاجر ہی کاروبار بند کردے تو ملک کی معیشت تباہ ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران حکومت نے لولی پاپ دیتے ہوئے صرف تین ماہ کے بجلی بلوں صر ف رعایت دی اور پیڑولیم مصنوعات میں اصافے اور ٹیکسوں میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تاجر دشمن پالیسیوں کو ختم کر کے تاجر دوست پالیسی مرتب کی جائیں تاکہ تاجر بھائی اپنا کاروبار بے خوف ہو کر کرسکیں۔
