ٹنڈوالہیار (ڈسٹرکٹ رپوٹرر) پاکستان کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی قیادت کو ’’قومی‘‘ ترجیحات پر قومی ڈائیلاگ کرنا ہوگا، عمران خان کی ضد انا و نا اہلی و ہٹ دھرمی رکاوٹ ہے۔ ریاستی نظام مفلوج اور ادارے بے یقینی کی وجہ سے جمود کا شکار ہیں مسئلہ کشمیر دفن کیا جارہا ہے اقتصادی تباہی عوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے۔ سیاسی آئینی اور سماجی بحران جمہوریت، پارلیمانی نظام کے لیے مسلسل خطرے کی گھنٹیاں بجا رہا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایاکہ رشتوں کوطے کرتے وقت حسن، مال و دولت بھی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے لیکن اصل ترجیح تقویٰ اورپرہیزگاری کو ہونی چاہیے اسی کی بنیاد پر خاندانوں میں شان بنتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار الخدمت اسپتال ٹنڈوالہیار کے ایڈمنسٹریڑ محمد یو نس قائم خانی نے میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، بیروزگاری، چینی، آٹا، بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ بھوک و افلاس اور انارکی پیدا کررہا ہے۔ عوام کا اعتماد پورے نظام سے اٹھ گیا ہے، حکومت اپنی ناکامی اور نا اہلی تسلیم کرچکی لیکن اخلاقی جمہوری، سیاسی جرات نہیں کہ اقتدار سے الگ ہوجائے اور عوام سے نئے مینڈیٹ کے لیے رجوع کیا جائے۔ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اپوزیشن اتحاد نے بھی کسی لائحہ عمل اور تیاری کے بغیر تحریک تو شروع کردی ہے لیکن ان کے بیانیہ کے ساتھ اتحادی خود عمل کے لیے تیار نہیںاسی وجہ سے نا اہل حکومت کو سہارا مل رہا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی دخل اندازی اور ذیادہ مسلط ہورہی ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک جدوجہد کا واضح لائحہ عمل ہے کہ مک میں بحرانوں سے نجات اسلام اور آئین کی حکمرانی میں ہے ،اقتصادی بحران کاعلاج سود کی لعنت ختم کرنے، بیرونی قرضوں اور کشکول سے نجات ، قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیاسی انتخابی پارلیمانی نظام سے اسٹیبلشمنٹ کی بے دخلی کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو انتخابی اصلاحات اور عمل درآمد پر یک آواز بننا ہے عوام نے سب پارٹیوں، فوجی آمریتوں اور اقتدار میں لانے کے لیے تمام ریاستی حربے آزمالیے ملک بھر میں ووٹرز جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ہم ملک کو بحرانوں سے نکالیں گے۔
