English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

لاپتا افراد کیس حراستی مراکز سے رپورٹ نہ آنے پر سیکرٹری دفاع و داخلہ کی طلبی کا انتباہ

القمر

کراچی( اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت عدالت نے سیکرٹری وزارت دفاع اور داخلہ سے رپورٹس طلب کرلیں۔سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی جہاں عدالتی حکم پر سربراہ جے آئی ٹی عدالت میں پیش ہوئے سربراہ جے آئی ٹیز کا کہنا تھا کہ مختلف اداروں کو خطوط لکھے گئے ہیں،لاپتا شہری عادل کسی بھی ادارے کی تحویل میں نہیں ہیں، خیبر پختونخوا کے حراستی مراکز سے تاحال جواب موصول نہیں ہوا، جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ شہریوں کی گمشدگی کا معاملہ انتہائی اہم اور حساس ہے، عدالت نے سیکرٹری وزارت دفاع اور داخلہ سے رپورٹس طلب کرلیں عدالت نے حکم دیا کہ خیبرپختونخوا کے حراستی مراکز سے رپورٹس موصول نہ ہوئی تو سیکرٹیزیز پیش ہوں، لاپتا افراد کی بازیابی کو ترجیح بنیادوں پر دیکھا جائے، لاپتا افرادکی گمشدگی کا مقدمہ درج نہ کرنے پر عدالت نے پولیس پر برہمی کا اظہار کیا عدالت کا کہنا تھا کہ اگر آج ہی مقدمہ درج نہ کیا گیا تو متعلقہ ایس پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں گے،لاپتا شہری کی والدہ کا کہنا تھا کہ شاہ فیصل کالونی تھانے بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرانے گئی لیکن ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، عدالت نے استفسار کیا کہ کون تھا جس نے مقدمہ درج نہیں کیا؟ کیا یہ پولیس اہلکار تھا؟ لاپتا شہری کی والدہ کا کہناتھا کہ نہیں یہ نہیں تھے کوئی اور پولیس اہلکار موجود تھا،جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو کا کہنا تھا کہ پولیس والوں خدا کا خوف کرو، اگر یہ کہتیں تم نے مقدمہ درج نہیں کیا تو ابھی سینٹرل جیل بھیج دیتا، لاپتا انیس کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹے کو اکتوبر میں بڑی بڑی گاڑیوں پر رات تین بجے لے گئے تھے، میں مریضہ ہوں، بہو معذور ہے پوتی کا رشتہ ٹوٹ گیا ہے، میں ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے میرا بیٹا ملادیں، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے بیٹے کو حراست میں کون لینے آیا تھا؟ رینجرز تھی یا پولیس؟ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بڑی بڑی گاڑیاں تھیں، سول میں اور کچھ پولیس کی وردیوں میں تھے، عدالت نے لاپتا شہریوں کی فوری بازیاب کا حکم دیتے ہوئے آئی جی سندھ، محکمہ داخلہ اور دیگر سے دو ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے