اسلام آباد(آن لائن) نیب سے متعلق سوال پر سینیٹ کے اجلاس میں شور شرابہ ہوا۔ اس موقع پر سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ سوال کرنا ہمارا پارلیمانی حق ہے‘ وزیر پارلیمنٹ کی توہین کر رہے ہیں‘سب کو معلوم ہے کہ پلی بارگین کیسے کرائی گئی‘ یہ بتائیں عدالتی کیسز میں پلی بارگین کے ذریعے کتنے پیسے جمع کرائے گئے‘ وزرا ہمارے اصل سوال کا جواب نہیں دے رہے۔ اجلاس کے
دوران چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے ٹائیگر فورس سے متعلق سوالات کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ جمعے کو سینیٹ اجلاس کے آغاز میں جماعت اسلامی کے رکن اور سابق رکن اسمبلی حافظ سلمان بٹ کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فاتحہ خوانی کرائی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بتایاکہ نیب کو حکومتی پاپندی سے آزاد کیا گیا ہے اور گزشتہ 10سال کے دوران نیب حکام نے مجموعی طور پر481ارب روپے کی ریکوری کی ہے جس میں موجودہ حکومت کے دور میں 390 ارب روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہاکہ اس وقت نیب میں جو کیسز چل رہے ہیں اس کا فیصلہ بھی جلد ہوجائے گا‘ بعض کیسز کے جرمانے ابھی تک جمع نہیں ہوئے ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ نیب زدہ افراد حکومت میں شامل ہیں۔
